برطانیہ میں 16 سال سے کم عمر بچوں پر سوشل میڈیا پابندی کا امکان
برطانوی حکومت نے عندیہ دیا ہے کہ 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی اسی سال عائد کی جا سکتی ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ اے آئی چیٹ بوٹس سے متعلق قانونی خلا بھی جلد پُر کیا جائے گا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق برطانیہ کی حکومت 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کرنے پر غور کر رہی ہے اور امکان ہے کہ اس سلسلے میں قانون سازی رواں سال ہی مکمل کر لی جائے۔
یہ اقدام آسٹریلیا کی طرز پر کیا جا رہا ہے، جو اس نوعیت کی پابندی نافذ کرنے والا پہلا ملک بنا تھا۔
برطانوی وزیراعظم کیئراسٹارمر کی حکومت نے گزشتہ ماہ اس حوالے سے عوامی مشاورت کا آغاز کیا تھا۔ حکام کے مطابق قانون میں ضروری ترامیم کر کے مشاورت مکمل ہونے کے چند ماہ کے اندر نئے قواعد نافذ کیے جا سکتے ہیں۔
ٹیکنالوجی امور کی وزیرلزکینڈل کا کہنا ہے کہ 2023 کے آن لائن سیفٹی ایکٹ کے باوجود کچھ اے آئی چیٹ بوٹس ایک قانونی خلا کے باعث حفاظتی دائرہ کار سے باہر ہیں، خاص طور پر وہ سسٹمز جو صارفین سے ون آن ون بات چیت کرتے ہیں۔ حکومت اس خلا کو بند کرنے کے لیے قانون میں ترمیم کرے گی۔
حکام کے مطابق بعض بچوں کی جانب سے اے آئی سسٹمز کے ساتھ غیر محفوظ نوعیت کے تعلقات قائم کرنے کے خدشات سامنے آئے ہیں، جس کے باعث نگرانی مزید سخت کرنے کی ضرورت محسوس کی گئی۔
حکومت جون سے پہلے اپنی حتمی تجاویز پیش کرے گی۔ اس کے علاوہ ایسے اقدامات پر بھی غور جاری ہے جن کے تحت کسی بچے کی موت کی صورت میں خودکار طور پر آن لائن ڈیٹا محفوظ کیا جا سکے تاکہ تحقیقات میں مدد ملے۔
گیمنگ پلیٹ فارمز پر اجنبی افراد کے درمیان رابطوں کو محدود کرنے اور عریاں تصاویر کی ترسیل روکنے کے اختیارات بھی زیر غور ہیں۔
تاہم بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ سخت پابندیاں بچوں کو کم نگرانی والے پلیٹ فارمز کی طرف دھکیل سکتی ہیں، جب کہ 16 سال کی عمر پر اچانک مکمل اجازت دینا بھی ایک نیا مسئلہ پیدا کر سکتا ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ کسی بھی پابندی سے قبل سوشل میڈیا کی واضح قانونی تعریف طے کی جائے گی۔