پیٹرول مہنگا کرنے پر اتحادی جماعت کی وفاقی حکومت پر شدید تنقید
پیپلزپارٹی کے رہنماؤں نے وفاقی حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو عوام دشمن فیصلہ قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کی ہے اور اس فیصلے پر نظر ثانی کا مطالبہ کیا ہے۔
وفاقی حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات میں اضافے کے معاملے پر پپیلزپارٹی کے رہنماؤں کی جانب سے سخت مؤقف سامنے آیا ہے۔
پیپلز پارٹی کے رہنما اور سندھ حکومت کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ رمضان سے قبل پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں اضافے سے متوسط طبقے کے بجٹ کو متاثر کرے گا جس سے ان پر بوجھ مزید بڑھ جائے گا۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر جاری بیان میں شرجیل میمن نے کہا کہ حکومت سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ عوام کو معاشی ریلیف فراہم کرتے ہوئے اس فیصلے پر نظر ثانی کرے۔
پیپلز پارٹی کی مرکزی ترجمان شازیہ مری نے قیمتوں میں اضافے کے فیصلے کو ’پیٹرول بم‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کیا ہے۔
شازیہ مری نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ پیپلزپارٹی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو مسترد کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ رمضان المبارک میں پیٹرول 5 روپے اور ڈیزل 7 روپے 32 پیسے فی لیٹر مہنگا کرنا عوام دشمن فیصلہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے سے حکومت نے مہنگائی سے تنگ عوام کو ریلیف دینے کے بجائے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کیا ہے۔ اس سے محنت کش اور متوسط طبقہ شدید متاثر ہوگا۔
شازیہ مری نے کہا کہ وفاقی حکومت نے ایک طرف رمضان پیکج اور دوسری طرف رمضان میں اضافی مہنگائی کا تحفہ دیا ہے۔ حکومت کو مشورہ ہے کہ وہ بے روزگاری، مہنگائی اور معاشی بحران کے خاتمے پر کام کرے اور فوری طور پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر نظرثانی کرے۔
واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 5 روپے کا اضافہ کیا ہے جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 258 روپے 17 پیسے فی لیٹر ہوگئی ہے۔
دوسری جانب ڈیزل کی قیمت میں بھی 7 روپے 32 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد ڈیزل کی نئی قیمت 275 روپے 70 پیسے ہوگئی ہے۔