سمندروں پر قبضے کی جنگ: چینی آبدوزوں کی ریکارڈ تیاری نے واشنگٹن کی نیندیں اڑا دیں
چینی آبدوزوں کی بڑھتی ریکارڈ تیاری نے واشنگٹن کی نیندیں اُڑا دیں ہیں، چین نے گزشتہ پانچ برسوں میں نیوکلیئر پاورڈ سب میرینز کی پیداوار میں تیزی سے اضافہ کیا ہے۔
سی این این کی رپورٹ کے مطابق چین یہ سب میرینز اتنی تیزی سے لانچ کر رہا ہے کہ امریکا کی طویل عرصے سے قائم سمندری برتری کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے، یہ بات ایک نئے تھنک ٹینک کی رپورٹ میں سامنے آئی ہے۔
بین الاقوامی ادارہ برائے اسٹریٹجک اسٹڈیز کی رپورٹ کے مطابق، عوامی لبریشن آرمی نیوی کی نیوکلیئر پاورڈ سب میرین فورس میں بیلسٹک میزائل اور اٹیک سب دونوں شامل ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2021 سے 2025 کے دوران چین نے سب میرینز کی تعداد میں امریکا کو پیچھے چھوڑ دیا ہے، چین نے 10 سب میرینز لانچ کیں جبکہ امریکا نے صرف 7 کیں، اور وزن کے لحاظ سے بھی چین نے 79 ہزار ٹن کے مقابلے میں امریکا کے 55 ہزار ٹن سے زیادہ لانچ کیا۔ رپورٹ میں چین کے شپ یارڈز کے سیٹلائٹ امیجز کی بنیاد پر یہ اندازے لگائے گئے ہیں۔
یہ 2016 سے 2020 کے دوران کے اعداد و شمار سے نمایاں تبدیلی ہے، جب چین نے صرف تین سب میرینز 23 ہزار ٹن اور امریکا نے سات 55 ہزار ٹن شامل کی تھیں۔
رپورٹ کے مطابق یہ اعداد و شمار لانچ کی گئی سب میرینز کی تعداد ظاہر کرتے ہیں، جو لازمی طور پر فعال بیڑے میں شامل نہیں ہوتیں، جہاں امریکا اب بھی برتری رکھتا ہے۔
2025 کے اوائل تک، چین کے پاس 12 فعال نیوکلیئر پاورڈ سب میرینز تھیں، جن میں چھ بیلسٹک میزائل اور چھ گائیڈڈ میزائل یا اٹیک شامل تھیں۔ اس کے مقابلے میں امریکا کے پاس مجموعی طور پر 65 سب میرینز ہیں، جن میں 14 بیلسٹک میزائل سب شامل ہیں۔
چین کی ایک بڑی کنونشنل پاورڈ سب میرین فورس بھی ہے، جس میں 46 سبز شامل ہیں۔ امریکا کے پاس کوئی کنونشنل سب نہیں، جو نیوکلیئر سب کے برخلاف باقاعدہ فیولنگ کی ضرورت رکھتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اپنی نیوکلیئر سب میرین فورس کی توسیع کے لیے بیجنگ نے شمالی چین میں بوہائی شپ بلڈنگ ہیوی انڈسٹری کمپنی کے ہولو ڈاؤ شپ یارڈ کو نمایاں طور پر بڑھایا ہے۔
یہ رپورٹ امریکی کانگریس کی کانگریشنل ریسرچ سروس کی گزشتہ ماہ شائع شدہ رپورٹ کے بعد سامنے آئی ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ امریکا اپنی ویریجینیا کلاس اٹیک سب میرینز کی سالانہ پیداوار کے ہدف سے بہت پیچھے ہے، اور 2022 کے بعد امریکی شپ یارڈز سالانہ صرف 1.1 سے 1.2 آبدوزیں تیار کر رہے ہیں۔
امریکا کولمبین کلاس بیلسٹک میزائل سب میرینز بھی تیار کر رہا ہے، لیکن یہ پروگرام کم از کم ایک سال سے تاخیر کا شکار ہے، اور اس کلاس کی پہلی آبدوز یو ایس ایس ڈسٹرکٹ آف کولمبیا کو 2028 تک نیوی کو نہیں دی جائے گی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہولو ڈاؤ شپ یارڈ میں لانچ کی گئی دو ٹائپ 094 بیلسٹک میزائل سب، نیوکلیئر میزائل فائر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور یہ بیجنگ کے بڑھتے ہوئے نیوکلیئر ٹریاد میں شامل ہیں، جو زمینی بیلسٹک میزائلز اور بمبار طیاروں پر مشتمل ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین کی ٹائپ 096 سب میرین بھی تیار ہو رہی ہے اور اس کی سروس ممکنہ طور پر 2020 کی دہائی کے آخر یا 2030 کی دہائی کے آغاز میں شروع ہوگی۔
بیلسٹک میزائل سب کے علاوہ، پچھلے پانچ سالوں میں پی ایل اے نیوی نے کم از کم چھ گائیڈڈ میزائل سب ایس ایس جی این لانچ کی ہیں، جن میں ورٹیکل لانچ سسٹم ہے، جو ہائی اسپیڈ اینٹی شپ میزائل فائر کرنے کے لیے استعمال ہو سکتا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی نوٹ کیا گیا کہ چین کے سب میرین ڈیزائن بظاہر امریکی اور یورپی سب کے معیار سے پیچھے ہیں، اور ان کی خاموشی اسٹیلتھ امریکا کے مقابلے میں کم ہے، جس سے سٹیلتھ ایڈوانٹیج امریکی نیوی کے پاس رہتا ہے۔
تاہم ماہرین کے مطابق سمندری جنگ میں زیادہ تعداد کی سب میرین فورس عام طور پر برتری حاصل کرتی ہے، اور چین کے پاس پہلے ہی دنیا کی سب سے بڑی ڈسٹرائر، فریگیٹس اور سطحی لڑاکا بیڑے موجود ہیں۔
کانگریشنل ریسرچ سروس کی رپورٹ کے مطابق آئندہ پانچ برسوں میں امریکا کی اٹیک سب میرینز کی تعداد 2030 تک 47 تک کم ہو جائے گی، جب لوس اینجلس کلاس سب ریٹائر ہوں گی۔ تعداد میں اضافہ 2032 تک متوقع ہے، بشرطیکہ تعمیراتی اہداف پورے ہوں، تاہم ویریجینیا کلاس کی آبدوزیں آسٹریلیا کو فروخت کرنے کا منصوبہ امریکی بیڑے کی ترقی میں رکاوٹ ڈال سکتا ہے۔