شائع 19 فروری 2026 10:19am

صبح کے وقت ماؤتھ واش کا استعمال بلڈ پریشر بڑھاتا ہے؟

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ آپ کا روزمرہ استعمال ہونے والا ماؤتھ واش آپ کے دل کی صحت کو متاثر کر سکتا ہے؟

بہت سے لوگ اپنے دن کا آغاز ماؤتھ واش کی ایک کلی سے کرتے ہیں۔ یہ تازگی بخشتا ہے، تیز رفتار ہے اور بظاہر بے ضرر لگتا ہے۔ لیکن نئی تحقیق ایک اہم سوال اٹھا رہی ہے، کیا ماؤتھ واش کا کثرت سے استعمال ہائی بلڈ پریشر کے خطرے میں معمولی اضافہ کر سکتا ہے؟

ابتدائی طور پر یہ خیال عجیب لگتا ہے۔ ماؤتھ واش صرف چند سیکنڈ کے لیے منہ میں رہتا ہے، تو یہ بلڈ پریشر کو کیسے متاثر کر سکتا ہے؟

ماہرین کے مطابق اس کا جواب زبان اور مسوڑھوں پر موجود ننھے جراثیمی نظام (اورل مائیکرو فلورا) میں چھپا ہے۔

سان فرانسسکو کے ڈینٹسٹ ڈاکٹر مارک برہن، جنہیں 40 سال سے زیادہ تجربہ ہے، نے بتایا کہ تقریباً 200 ملین امریکی ہر صبح ماؤتھ واش استعمال کرتے ہیں۔

انہوں نے انسٹاگرام پر ایک پوسٹ میں کہا، ’یہ بلڈ پریشر بڑھا سکتا ہے اور آپ کا ڈینٹسٹ کچھ نہیں کہتا۔‘

ڈاکٹر برہن کے مطابق ماؤتھ واش کے مسلسل استعمال سے وہ بیکٹیریا ختم ہو جاتے ہیں جو نائٹریٹ کو نائٹرک آکسائیڈ میں تبدیل کرتے ہیں۔

یہ بیکٹیریا خوراک میں موجود نائٹریٹس کو نائٹرک آکسائیڈ میں تبدیل کرنے میں مدد دیتے ہیں، جو خون کی نالیوں کو پھیلاتا ہے اور بلڈ پریشر کو منظم رکھنے میں مددگار ہوتا ہے۔

جب طاقتور اینٹی سیپٹک ماؤتھ واش ان مفید بیکٹیریا کو ختم کر دیتا ہے تو نائٹرک آکسائیڈ کی سطح کم ہو سکتی ہے اور جب نائٹرک آکسائیڈ کم ہو جائے تو جسم کو بلڈ پریشر کو متوازن رکھنے میں مشکل پیش آ سکتی ہے۔

ڈاکٹر مارک برہن نے اپنی تشویش کی حمایت میں کئی تحقیقی مطالعات کا حوالہ دیا جو ظاہر کرتے ہیں کہ روزانہ ماؤتھ واش کے کثرت سے استعمال سے جسمانی صحت پر ممکنہ اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ہارورڈ یونیورسٹی سے وابستہ ایک مطالعہ جس میں تقریباً 1,000 بالغ افراد کو تین سال تک فالو کیا گیا، اس میں دو بار روزانہ ماؤتھ واش استعمال کرنے والوں میں پری ڈائبٹیز یا ذیابیطس کا خطرہ 55 فیصد زیادہ پایا گیا۔

ایک اور تحقیق سے معلوم ہوا کہ ایسے افراد میں ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ دوگنا سے بھی زیادہ تھا۔ مزید برآں، یونیورسٹی آف پلیموتھ کی تحقیق میں دیکھا گیا کہ ماؤتھ واش نے ورزش کے دوران حاصل ہونے والے بلڈ پریشر کے فوائد کا 60 فیصد سے زیادہ حصہ ختم کر دیا، اور یہ اثر صرف دو گھنٹے میں مکمل طور پر ظاہر ہو گیا۔

ڈاکٹر برہن نے اس مسئلے کے بارے میں شعور کی کمی پر بھی تنقید کی اور کہا، ’زیادہ تر امریکی ڈینٹسٹ آپ کو یہ نہیں بتائیں گے: آپ کا ماؤتھ واش وہ بیکٹیریا ختم کر رہا ہے جس کی آپ کے جسم کو واقعی ضرورت ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ صرف منہ کو جراثیم سے پاک کرنے کو ترجیح دینا، اورل مائیکرو بایوم کے توازن کو نظر انداز کرنا، طویل مدتی صحت پر منفی اثرات ڈال سکتا ہے۔*

کئی تحقیقات سے بھی یہ بات سامنے آئی کہ اینٹی بیکٹیریل ماؤتھ واش ورزش کے بعد حاصل ہونے والے بلڈ پریشر میں کمی کے فوائد کو کم یا عارضی طور پر ختم کر سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں، بلکہ درست اور معتدل استعمال اہم ہے۔ انکے مطابق منہ میں اچھے اور برے دونوں قسم کے بیکٹیریا موجود ہوتے ہیں، اور ان کا توازن برقرار رکھنا ضروری ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ کلورہیکسیڈین جیسے مضبوط ماؤتھ واش صرف ڈاکٹر کے مشورے سے اور محدود مدت کے لیے استعمال کیے جائیں۔ روزمرہ صفائی کے لیے فلورائیڈ پر مشتمل عام ماؤتھ واش مناسب مقدار میں استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق دن میں دو مرتبہ فلورائیڈ ٹوتھ پیسٹ سے برش کرنا اور باقاعدگی سے فلاس کرنا منہ کی صحت کے بنیادی اصول ہیں۔ ماؤتھ واش کو معاون کے طور پر استعمال کیا جائے، نہ کہ بنیادی حل کے طور پر۔

طبی ماہرین اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ منہ کی صحت اور دل کی صحت کا گہرا تعلق ہے، اس لیے صفائی ضرور کریں لیکن اعتدال اور شعور کے ساتھ۔

ماؤتھ واش نقصان دہ نہیں، مگر اس کا اندھا دھند اور بار بار استعمال مفید بیکٹیریا کے توازن کو متاثر کر سکتا ہے۔

کسی بھی تبدیلی سے قبل اپنے ڈینٹسٹ سے مشورہ ضرور کریں، خاص طور پر اگر آپ بلڈ پریشر یا ذیابیطس جیسے مسائل کا شکار ہیں۔

Read Comments