اپ ڈیٹ 19 فروری 2026 03:24pm

بھارت کی اے آئی سمٹ مذاق بن گئی؛ بل گیٹس سمیت کئی نامور شخصیات کا شرکت سے انکار

بھارت میں جاری پانچ روزہ ’انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ‘ اس وقت شدید تنقید کی زد میں ہے۔ بدانتظامی کی شکایات، چینی روبوٹ کو مقامی ایجاد قرار دینے کے تنازع کے بعد مصنوعی ذہانت اور ٹیکنالوجی کے شعبے کی اہم عالمی شخصیات کی جانب سے سمٹ میں شرکت سے انکار کر دیا گیا ہے۔

بھارت کے شہر نئی دہلی میں جاری ’اے آئی سمٹ‘ کو اس وقت بڑا دھچکا لگا جب مائیکروسافٹ کے شریک بانی بِل گیٹس نے اپنا طے شدہ خطاب چند گھنٹے قبل منسوخ کر دیا۔

بِل گیٹس کے بعد اینویڈیا کے سربراہ جینسن ہوانگ کا خطاب بھی منسوخ ہوگیا، جس سے اس عالمی کانفرنس کے آغاز پر ہی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

بھارت کی جانب سے مصنوعی ذہانت کی پہلی سب سے بڑی عالمی کانفرنس کے طور پر منعقد کی گئی یہ سمٹ ابتدا ہی سے مختلف مسائل کا شکار رہی۔

سرمایہ کاری کے اعلانات کے باوجود کانفرنس بدانتظامی کے باعث بھی تنقید کی زد میں رہی۔ شرکا نے حکومتی سطح پر منصوبہ بندی کے فقدان پر شدید ناراضی کا اظہار کیا۔

کانفرنس کے نمائشی ہالز کو جمعرات کے روز اچانک عوام کے لیے بند کر دیا گیا، جس پر اسٹالز لگانے والی کمپنیوں نے احتجاج کیا۔

گزشتہ روز یہ سمٹ اس وقت مذاق بن کر رہ گئی جب بھارت کی ایک نجی یونیورسٹی نے چین میں تیار کردہ روبوٹس کو بھارتی ایجاد کے طور پر میڈیا کے سامنے پیش کیا۔

سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہونے کے بعد صارفین نے اس دعوے کو بے نقاب کردیا۔ جس کے بعد گلگوٹیاس یونیورسٹی کو اس سمٹ سے نکال دیا گیا اور سوشل میڈیا پر بھی خوب میمز بن رہی ہیں۔

بعد ازاں یونیورسٹی کی جانب سے اس دعوے کی نفی میں بھی صفائیاں دی گئیں جس میں روبوٹ کو چینی ساختہ تسلیم کیا گیا ہے۔

بھارت کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت کانگریس نے بھی اس معاملے کے حوالے سے سوشل میڈیا پر ویڈیوز شیئر کیں جس میں ناقص انتظامات پر مودی حکومت پر شدید تنقید کی گئی ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق کانفرنس کے دوران وی آئی پی شخصیات کی آمد و رفت کے لیے پولیس نے بارہا سڑکیں بند کیں، جس سے نئی دہلی شہر میں ٹریفک کا نظام درہم برہم ہو گیا۔

بدھ کے روز سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز سامنے آئیں جن میں شرکا کو دہلی کی بند سڑکوں کے باعث کئی کلومیٹر پیدل چلتے دیکھا گیا، حاضرین ٹیکسی سروس اور شٹل سروس نہ ہونے پر بھی برہم نظر آئے۔

بھارت کی اپوزیشن جماعتوں نے عالمی کانفرنس کے ناقص انتظامات پر حکومت اور وزیراعظم کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

کانگریس کے ترجمان پون کھیرا نے کہا کہ اگر انجینئرز اور اے آئی ماہرین کو طویل فاصلے پیدل طے کرنا پڑیں تو پھر کاروباری افراد ملک چھوڑ کر ہی جائیں گے۔

کانگریس کے آفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے شیئر کی گئی ایک ویڈیو میں اس سمٹ کو مودی حکومت کا ناکام ’پی آر شو‘ قرار دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ اس سمٹ کا مقصد بھارت کو مصنوعی ذہانت کے بڑے مرکز کے طور پر پیش کرنا تھا، تاہم بدانتظامی اور تنازعات کے باعث یہ سمٹ منفی خبروں میں ہی زیادہ رہی۔

Read Comments