مصر میں خاتون نیوکلیئر انجینیئر فٹ پاتھ پر بے گھر زندگی گزارنے پر مجبور
مصر کی ایٹمی توانائی اتھارٹی کی سابق انجینئر لیلیٰ ابراہیم حسن کا دل خراش واقعہ ملک بھر میں بحث و مباحثہ اور شدید عوامی ردِعمل کا سبب بن گیا۔ انہیں تقریباً سات ماہ قبل اپنے اپارٹمنٹ سے بے دخل کر کے سڑک پر رہنے پر مجبور کر دیا گیا تھا، جس کے بعد سوشل میڈیا پر ان کی حالتِ زار موضوعِ بحث بنی رہی اور عوامی سطح پر ان کے حق میں گہری ہمدردی اور غم و غصے کا اظہار کیا گیا۔
مصری میڈیا کے مطابق 66 سالہ لیلیٰ ابراہیم حسن مصر کے شہر انشاس میں واقع ایٹمی توانائی کمیشن میں انجینئر کے طور پر خدمات انجام دینے کے بعد ریٹائر ہو چکی ہیں۔ وہ محدود پینشن پر گزارا کرتی ہیں۔ آٹھ سال قبل انہوں نے جیزہ کے علاقے تحرمس میں ایک اپارٹمنٹ کرایہ پر لیا تھا، جس کا ماہانہ کرایہ 1200 مصری پاؤنڈ تھا اور ہر دو سال بعد 10 فیصد اضافے کی شرط تھی۔
وقت کے ساتھ کرایہ بڑھ کر3 ہزار پاؤنڈ تک پہنچ گیا، جو ان کی ماہانہ پینشن کے برابر تھا۔ اس کے باوجود وہ اپنی زندگی گزارنے میں کامیاب رہیں۔
تقریباً سات ماہ قبل تنازع شروع ہوا جب مکان مالک نے کرایے میں مزید اضافہ یا اپارٹمنٹ چھوڑنے کا مطالبہ کیا، جس کے بعد لیلیٰ خاتون نے اپنا اپارٹمنٹ چھوڑنے سے انکار کیا، کیونکہ ان کے پاس کوئی اور ٹھکانا بھی نہ تھا۔
مالک مکان نے گارڈ کے ذریعے اپارٹمنٹ میں داخل ہو کر تالے بدل دیے، جس سے لیلیٰ اپنا گھر کھو بیٹھیں اور سڑک پر زندگی گزارنے پر مجبور ہو گئیں۔ اپنی والدہ کی وفات کے بعد لیلیٰ تنہا رہتی ہیں اور ان کے کوئی قریبی رشتہ دار یا بہن بھائی موجود نہیں ہیں۔
لیلیٰ خاتون کا واقعہ سوشل میڈیا پر ہیش ٹیگز کے ساتھ تیزی سے وائرل ہوا، اور لوگوں نے وزارتِ سماجی یکجہتی سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔ سماجی کارکنوں نے اس کہانی کو معاشرتی غفلت کی نمایاں مثال قرار دیا اور خبردار کیا کہ معمر افراد اور وہ کمزور لوگ جو خاندان یا کسی کفیل کی مدد سے محروم ہوں، اسی طرح کے حالات کا شکار ہو سکتے ہیں۔
مصری میڈیا نے بھی ان کی تصاویر اور کہانی بڑے پیمانے پر شائع کیں اور ان کے حقوق کے تحفظ اور مناسب رہائش کی فراہمی کی ضرورت پر زور دیا۔
سرکاری اور عوامی حلقوں نے وزارتِ سماجی یکجہتی کی قیادت میں متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر لیلیٰ خاتون کی مدد کی جائے، انہیں مناسب رہائش فراہم کی جائے اور اپارٹمنٹ کے قانونی حقوق کی بحالی یا مناسب معاوضے کے ذریعے ان کی عزت اور نفسیاتی استحکام کو یقینی بنایا جائے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات کو روکنے کے لیے کرایہ داری کی نگرانی اور ریٹائراور کم آمدنی والے افراد کے لیے مالی معاونت کے پروگرام مرتب کیے جائیں۔