اپ ڈیٹ 20 فروری 2026 09:34pm

امریکی سپریم کورٹ نے ٹرمپ کا ایمرجنسی ٹیرف اقدام غیر قانونی قرار دے دیا

امریکی سپریم کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایمرجنسی ٹیرف اقدام کو غیر قانونی قرار دے دیا، جو انہوں نے قومی ایمرجنسی کے قانون کے تحت عائد کیے تھے۔

بر طانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق عدالتِ عظمٰی نے واضح کیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے ٹیرف کے لیے کانگریس کی منظوری نہیں لی اور یہ اقدام قانونی دائرہ اختیار سے باہر تھا۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ ٹیرف عائد کرنے کے لیے کانگریس کی منظوری لازمی ہے اور صدر اس اختیارات کا ناجائز استعمال نہیں کر سکتے۔ عدالت کے مطابق ٹرمپ نے اپنے اختیارات کو غلط استعمال کیا اور وائٹ ہاؤس کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے پاکستان سمیت متعدد ممالک پر ٹیرف عائد کیے۔

فیصلے میں عدالت نے کہا کہ صدر ٹرمپ کے اس اقدام سے کانگریس کے اختیار میں مداخلت ہوئی اور یہ ملکی آئینی اصولوں کے منافی ہے۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ صدر صرف اسی حد تک ٹیرف عائد کر سکتا ہے جس کے لیے کانگریس نے واضح طور پر اجازت دی ہو۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جان رابرٹس نے تحریری فیصلے میں کہا کہ صدر کو ٹیرف عائد کرنے کے لیے کانگریس کی واضح اجازت درکار ہے اورآئی ای ای پی اے اس کے لیے اختیارات نہیں دیتا۔

عدالت نے کہا کہ اس طرح کے ٹیرفز لگانا کانگریس کے اختیار میں مداخلت کے مترادف ہے اور ”میجر کوئسچنز“ کے اصول کی خلاف ورزی ہے جو حکومت کے ایسے فیصلوں کے لیے ہے جو بڑے اقتصادی یا سیاسی اثرات رکھتے ہوں۔

رائٹرز کے مطابق ٹرمپ نے ٹیرفز کو اقتصادی اور خارجہ پالیسی کے اہم آلے کے طور پر استعمال کیا، جس کے نتیجے میں عالمی تجارتی شراکت دار ناراض ہوئے، مالی مارکیٹس متاثر ہوئیں اور عالمی معیشت میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی۔

سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ ٹرمپ کے ٹیرفز سے متاثرہ کاروباری افراد اور 12 امریکی ریاستوں کے مقدمات کی بنیاد پر آیا، جن میں زیادہ تر ڈیموکریٹک حکومتیں شامل ہیں۔

تین مخالف جج، کلیرنس تھامس، سیموئل الیٹو اور بریٹ کاوانو نے اختلافی رائے دی۔ رابرٹس کے ساتھ اکثریت میں شامل ججوں میں نیل گورسچ، ایمی کونی باریٹ اور تین لبرل جج شامل تھے۔

فیصلے کے بعد امریکی صارفین اور کاروباروں کو ممکنہ طور پر اربوں ڈالر کے ٹیرف ریفنڈ کا حق حاصل ہوسکتا ہے۔ ڈیموکریٹک رہنما چک شومر نے اس فیصلے کو ”ہر امریکی صارف کے لیے فتح“ قرار دیا اور کہا کہ ٹرمپ نے غیر قانونی طور پر حکمرانی کی اور خاندانوں پر بوجھ ڈالا۔

Read Comments