سپریم کورٹ کے فیصلے کے باوجود ٹرمپ نے تمام ممالک پر مزید 10 فیصد ٹیرف عائد کر دیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تمام ممالک پر دس فیصد گلوبل ٹیرف عائد کرنے کے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کر دیے ہیں اور اعلان کیا ہے کہ یہ نیا ٹیرف فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔
صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ بیرونی ممالک امریکا کو معاشی نقصان پہنچا رہے ہیں، اس لیے یہ اقدام امریکی مفاد کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیرف کے ذریعے امریکا اپنی صنعت اور معیشت کو مضبوط بنائے گا۔
صدر ٹرمپ نے اس موقع پر امریکی سپریم کورٹ کے ٹیرف پر پابندی کے حالیہ فیصلے کو انتہائی مایوس کن قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ عدالت کا فیصلہ قوم کی توہین کے مترادف ہے اور اس سے امریکا کے مفادات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
امریکا کی سپریم کورٹ نے صدر ٹرمپ کی جانب سے گزشتہ سال نافذ کیے گئے عالمی ٹیرف کو چھ کے مقابلے میں تین ووٹوں سے کالعدم قرار دے دیا ہے۔
عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس جان رابرٹس نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ صدر کو ٹیرف عائد کرنے کا اختیار نہیں دیتا۔
عدالت کے مطابق یہ قانون قومی ہنگامی صورتحال کے لیے مخصوص ہے اور اس کے تحت وسیع پیمانے پر عالمی ٹیرف نافذ نہیں کیے جا سکتے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ صدر نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا۔
اس عدالتی فیصلے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ کے وسیع تجارتی اقدامات قانونی طور پر ختم ہو گئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس فیصلے کے امریکی تجارتی پالیسی پر دور رس اثرات مرتب ہوں گے اور مستقبل میں صدر کے اختیارات کی حدود مزید واضح ہو جائیں گی۔
صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ٹیرف پالیسی کی وجہ سے آٹھ میں سے پانچ جنگیں رکیں، جن میں بھارت اور پاکستان کے درمیان ممکنہ جنگ بھی شامل تھی۔ صدر کے مطابق یہ ایک نیوکلیئر جنگ بن سکتی تھی، تاہم ان کے اقدامات سے حالات قابو میں آئے۔
صدر ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کی تعریف کی اور کہا کہ غزہ پیس بورڈ کے موقع پر شہباز شریف نے کہا تھا کہ ٹرمپ نے پینتیس ملین افراد کی جانیں بچائیں۔
ٹرمپ نے اس بیان کو اپنے لیے اعزاز قرار دیا اور کہا کہ ان کی خارجہ پالیسی کا مقصد امن کو فروغ دینا ہے۔
دوسری جانب امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ حکومت ٹیرف برقرار رکھنے کے لیے دیگر قانونی راستے اختیار کرے گی۔
ان کے مطابق اب سیکشن 232 اور سیکشن 301 کے تحت ٹیرف نافذ کیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ان قوانین کو ماضی میں عدالتوں میں چیلنج کیا گیا لیکن عدالتوں نے انہیں درست قرار دیا تھا۔
امریکی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ اگرچہ عدالت نے صدر کا مخصوص اختیار محدود کر دیا ہے، تاہم ممالک کے لیے مجموعی طور پر ٹیرف کی سطح کم و بیش وہی رہے گی، صرف طریقہ کار مختلف ہوگا۔