شائع 22 فروری 2026 10:24am

روزے میں پیاس سے بچنے کے لیے سحری میں کیا کھائیں؟

رمضان کے مقدس مہینے میں روزہ رکھنے والے افراد کے لیے جسم کو ہائیڈریٹ اور توانائی سے بھرپور رکھنا بہت ضروری ہے، کیونکہ دن بھر بغیر کھانے پینے کے گزارنا جسمانی تھکن اور ڈی ہائیڈریشن کا سبب بن سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق، سحری میں پانی اور مناسب خوراک کا استعمال دن بھر توانائی برقرار رکھنے کے لیے نہایت اہم ہے۔

نوئیڈا کے مانس اسپتال کی ماہر غذائیت کامنی سنہا اس سلسلے میں مفید مشورے دیتی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ سحری میں 2-3 گلاس پانی آہستہ آہستہ پینا بہتر ہے، تاکہ جسم رات بھر کے پانی کے نقصان کو پورا کر سکے۔ ایک ساتھ پانی پینے سے بہتر ہے کہ چھوٹے چھوٹے گھونٹ لیے جائیں۔

ناریل پانی بھی ایک بہترین انتخاب ہے، کیونکہ اس میں قدرتی الیکٹرولائٹس موجود ہوتے ہیں جو جسم میں پانی کے توازن کو برقرار رکھتے ہیں اوردن بھر لگنے والی پیاس کو کم کرتے ہیں۔

ڈائٹیشن کے مطابق دودھ یا کم چکنائی والے دہی سے بنی اسموتھی سحری میں شامل کرنے سے دن بھر توانائی اور پیاس پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

اسموتھی میں کیلا، کھجور یا بھیگے ہوئے چیا سیڈز شامل کرنا فائدہ مند ہے، کیونکہ چیا سیڈز پانی جذب کر کے جیل کی شکل اختیار کر لیتے ہیں جس سے جسم میں نمی تادیر برقرار ر ہتی ہے۔
اس کے ساتھ ہی، زیادہ میٹھے مشروبات سے پرہیز کریں، کیونکہ زیدہ شکر دن میں پیاس بڑھا سکتی ہے۔

لیموں پانی یا سادہ لسی بھی سحری میں مفید ہیں، بشرطیکہ شکر کی مقدار کم اور متوازن ہو۔ ہلکا سا نمک ملا لیموں پانی جسم میں الیکٹرولائٹ بیلنس قائم رکھنے میں مدد دیتا ہے اور پودینہ یا تلسی کے پتوں کے ساتھ ہربل ڈرنک جسم کو تازگی اور سکون پہنچاتا ہے۔

سحری میں کیفین والے مشروبات جیسے چائے اور کافی سے پرہیز کریں، کیونکہ یہ جسم سے پانی خارج کر کے پیاس بڑھا سکتے ہیں۔

خوراک کے انتخاب میں زیادہ نمکین، مصالحہ دار یا تلا ہوا کھانا دن میں پیاس بڑھا سکتا ہے۔ اس کے بجائے اوٹس، دلیہ، مکمل اناج، انڈے، سبزیاں اور پانی والے پھل جیسے تربوز، کھیرا اور سنترا شامل کریں۔ پروٹین اور فائبر سے بھرپور کھانا توانائی کو آہستہ آہستہ جاری کرتا ہے، جس سے دن بھر تھکن کم محسوس ہوتی ہے۔

ماہرین غذائیت کا کہنا ہے کہ اگر آپ کو کوئی طبی مسئلہ ہے تو روزہ رکھنے سے پہلے اپنے ڈاکٹر یا ڈائٹیشن سے مشورہ ضرور کریں، تاکہ رمضان کے دوران صحت اور توانائی برقرار رہ سکے۔

Read Comments