اب ہم صرف جنازے نہیں اٹھائیں گے، بھرپور جواب بھی دیں گے: طارق فضل چوہدری
وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے سینیٹ میں پالیسی بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں حالیہ خودکش حملوں میں افغانستان میں موجود دہشت گرد ملوث ہیں اور جو بھی میلی آنکھ پاکستان کی طرف اٹھے گی اسے مٹا دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان میں صرف دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کو نشانہ بنایا اور کسی بھی شہری کو نقصان نہیں پہنچا۔
سینیٹ میں پالیسی بیان دیتے ہوئے وفاقی وزیرطارق فضل چوہدری نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی سے متعلق ٹھوس شواہد افغانستان کے حکام کے سامنے رکھے، تاہم اس کے باوجود کوئی مؤثر اور قابلِ عمل اقدامات دیکھنے میں نہیں آئے اور دہشت گردوں کی دراندازی کا سلسلہ بدستور جاری رہا۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان کے اندر موجود محفوظ پناہ گاہوں کی نشاندہی بھی کی گئی۔ سرحدی جھڑپوں کے بعد دوست ممالک کی مداخلت سے مذاکرات ہوئے، جن میں ایک بار پھر وہی شواہد پیش کیے گئے۔ طارق فضل چوہدری نے بتایا کہ اس وقت کہا گیا کہ 10 ارب روپے دے دیں، ہم انہیں سرحد سے دور بسائیں گے، مگر اس کی گارنٹی کوئی نہیں دی گئی۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے باوجود دہشت گردی کی کارروائیاں جاری رہیں، اسلام آباد کی مسجد میں نماز جمعہ کے وقت حملہ کیا گیا جبکہ بنوں اور باجوڑ میں خودکش دھماکے ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست محض جنازے اٹھانے تک محدود نہیں رہ سکتی، اسی لیے فیصلہ کیا گیا کہ دہشت گردوں کو منہ توڑ جواب دیا جائے۔
طارق فضل چوہدری نے بتایا کہ ایئر اسٹرائیک میں 100 سے زائد دہشت گردوں کو نشانہ بنایا گیا اور اس حوالے سے پھیلائے جانے والے پروپیگنڈے کی سختی سے تردید کی جاتی ہے۔ ان کے مطابق کارروائی میں صرف دہشت گردوں کو نشانہ بنایا گیا۔
وفاقی وزیر نے پالیسی بیان میں کہا ایئر فورس نے اکیس فروری کو افغانستان کے تین صوبوں میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں اور تربیتی کیمپوں پر کارروائی کی، کارروائی پاکستان میں دہشت گردی کے جواب میں کی گئی۔
انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ بزدلانہ حملوں سے قوم کے حوصلے پست نہیں کیے جا سکتے، ملک کے ایک ایک چپے کا دفاع کیا جائے گا اور ایک ایک قطرہ لہو کا حساب لیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے اور شہدا کے اہل خانہ کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز پاکستان نے افغانستان میں موجود دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر جوابی کارروائی کی جس میں فتنہ الخوارج اور کالعدم ٹی ٹی پی کے مراکز کو نشانہ بنایا۔