ٹی 20 ورلڈ کپ: اگر سری لنکا سیمی فائنل میں پہنچا تو میچ کہاں کھیلے گا؟ وینیو سامنے آگیا
آئی سی سی مینز ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 میں سری لنکا کے لیے ہوم گراؤنڈ پر سیمی فائنل کھیلنے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے تاہم یہ صورت حال دیگر ٹیموں کی کوالیفکیشن اور مقابل حریف پر منحصر ہوگی۔
کھیلوں کی ویب سائٹ کرک انفو کی رپورٹ کے مطابق اگر سری لنکا سیمی فائنل مرحلے تک رسائی حاصل کر لیتا ہے اور اس کا مقابلہ بھارت کے علاوہ کسی اور ٹیم سے ہوتا ہے جب کہ پاکستان سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی نہ کر سکے تو کولمبو کے آر پریماداسا اسٹیڈیم میں سیمی فائنل منعقد ہوگا۔
آئی سی سی کی جانب سے سپر ایٹ مرحلے کی تکمیل کے بعد تمام اسٹیک ہولڈرز کو بھیجے گئے اعلامیے میں سیمی فائنلز کے انتظامات کی وضاحت کی گئی ہے۔ اعلامیے کے مطابق سیمی فائنل ون کولمبو یا کولکتہ میں منعقد ہوسکتا ہے اور یہ فیصلہ مخصوص شرائط کے تحت کیا جائے گا۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اگر پاکستان سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کرتا ہے تو وہ 4 مارچ کو کولمبو میں سیمی فائنل ون کھیلے گا۔ اگر پاکستان سیمی فائنل میں جگہ نہ بنا سکے لیکن سری لنکا کوالیفائی کر جائے اور اس کا مقابلہ بھارت کے علاوہ کسی ٹیم سے ہو تو سری لنکا سیمی فائنل ون کولمبو میں کھیلے گا۔
آئی سی سی نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر نہ پاکستان اور نہ ہی سری لنکا سیمی فائنل میں پہنچتے ہیں تو سیمی فائنل ون کولکتہ جب کہ سیمی فائنل ٹو ممبئی میں کھیلا جائے گا۔ اگر بھارت سیمی فائنل میں رسائی حاصل کرتا ہے تو وہ ممبئی میں کھیلے گا، سوائے اس صورت کے جب اس کا مقابلہ پاکستان سے ہو، ایسی صورت میں میچ کولمبو منتقل کیا جائے گا۔
اعلامیے میں مزید بتایا گیا ہے کہ اگر بھارت، پاکستان اور سری لنکا تینوں میں سے کوئی بھی سیمی فائنل میں نہ پہنچے تو سپر ایٹس کے گروپ ون کی ٹاپ ٹیم گروپ ٹو کی رنر اپ ٹیم سے کولکتہ میں مدمقابل ہوگی جب کہ گروپ ٹو کی فاتح ٹیم گروپ ون کی رنر اپ سے ممبئی میں مقابلہ کرے گی۔
واضح رہے کہ سری لنکا اور پاکستان دونوں سپر ایٹس کے گروپ ٹو میں شامل ہیں، اس لیے دونوں ٹیموں کے درمیان سیمی فائنل کا امکان موجود نہیں۔
یہ وضاحت نومبر میں جاری کردہ ابتدائی شیڈول کے بعد سامنے آئی ہے، جس میں پاکستان کے سیمی فائنل اور فائنل سری لنکا میں منتقل ہونے کی صورت حال کا ذکر تو تھا تاہم سری لنکا کے سیمی فائنل اپنے ہوم گراؤنڈ پر کھیلنے کے امکان سے متعلق واضح شق موجود نہیں تھی۔ آئی سی سی سے اس معاملے پر مزید مؤقف کے لیے رابطہ کیا گیا ہے۔