اپ ڈیٹ 25 فروری 2026 04:33pm

سیمی فائنل کی دوڑ: بھارت کے پاس آخری موقع؛ پاکستان کی نظریں دیگر ٹیموں پر

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 کے سپر ایٹ مرحلے کے سنسنی خیز مقابلے جاری ہیں۔ سیمی فائنل تک رسائی کی دوڑ میں آٹھ ٹیمیں شامل ہیں اور ہر گروپ سے صرف دو ٹیمیں کوالیفائی کریں گی۔ انگلینڈ نے سیمی فائنل میں جگہ پکی کرلی ہے جب کہ باقی سات ٹیموں سے کوئی تین اگلے مرحلے کا ٹکٹ کٹوائیں گی۔ اس مرحلے پر بھارت اور پاکستان دونوں سخت دباؤ اور اگر مگر کی صورتِ حال کا شکار ہیں۔

سپر ایٹ مرحلے میں ٹیموں کو دو گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے۔ گروپ ون میں بھارت، جنوبی افریقا، ویسٹ انڈیز اور زمبابوے شامل ہیں، جب کہ گروپ ٹو میں انگلینڈ، نیوزی لینڈ، سری لنکا اور پاکستان مدمقابل ہیں۔

ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 کے سپر ایٹ مرحلے کے گروپ وَن میں ویسٹ انڈیز کی پوزیشن فی الحال سب سے زیادہ مستحکم ہے۔ ویسٹ انڈیز اس وقت 2 پوائنٹس اور انتہائی مضبوط نیٹ رن ریٹ کے ساتھ گروپ میں سرِفہرست ہے۔

سپر ایٹ کے اپنے پہلے میچ میں زمبابوے کے خلاف 107 رنز سے جیتنے کے بعد کیریبین ٹیم کو گروپ ون سے سیمی فائنل میں جانے والی پہلی ٹیم تصور کیا جارہا ہے۔

ویسٹ انڈیز کے ابھی دو میچز باقی ہیں، صرف ایک میچ میں کامیابی کی صورت میں وہ سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کر جائے گی۔ یعنی بہترین نیٹ رن ریٹ کے ساتھ ویسٹ انڈیز اب سیمی فائنل سے محض ایک فتح کے فاصلے پر ہے۔

اگر ویسٹ انڈیز اپنے دونوں بقیہ میچز ہار جاتا ہے، تب بھی ان کے پاس موقع رہے گا بشرطیکہ وہ بہت بڑے مارجن سے نہ ہاریں۔ ایسی صورت میں گروپ کی دیگر ٹیموں کے نتائج اور نیٹ رن ریٹ کا موازنہ کیا جائے گا، جہاں ویسٹ انڈیز کو رن ریٹ کی وجہ سے یقینی برتری حاصل رہے گی۔

جنوبی افریقا اس وقت گروپ میں دوسرے نمبر پر براجمان ہے۔ پروٹیز ٹیم نے سپر ایٹ مرحلے کے پہلے میچ میں دفاعی چیمپئن بھارت کے خلاف بھارت کے خلاف آؤٹ کلاس بالنگ اور بیٹنگ کے جوہر دکھا کر اپنے عزائم واضح کر دیے تھے۔

محض 20 رنز پر 3 وکٹیں گنوا دینے کے بعد ڈیوڈ ملر اور ڈیوالڈ بریوس کی 97 رنز کی شراکت داری نے جنوبی افریقا کو 188 رنز تک پہنچایا۔ بعد ازاں پروٹیز بولرز نے بھارتی بیٹنگ لائن کا بوریا بستر 111 رنز پر لپیٹ دیا۔

بھارت کے خلاف 76 رنز سے بڑی جیت نے نہ صرف جنوبی افریقا کی گروپ میں پوزیشن مستحکم کی بلکہ نیٹ رن ریٹ بھی بہتر بنا دیا ہے۔

اگر جنوبی افریقا اپنے اگلے دونوں میچز جیت لیتا ہے تو وہ 6 پوائنٹس کے ساتھ گروپ میں پہلے نمبر پر آجائے گا اور براہِ راست سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کر لے گا۔

تاہم ایک میچ میں شکست کی صورت میں صورتِ حال اگر مگر کا شکار ہوجائے گی۔ اس صورت میں ویسٹ انڈیز کی بھارت اور بھارت کی زمبابوے کو شکست جنوبی افریقا اور ویسٹ انڈیز کو سیمی فائنل میں پہنچا دے گی۔

بھارت اس وقت گروپ وَن کے موجودہ پوائنٹس ٹیبل میں تیسرے نمبر پر موجود ہے۔ جنوبی افریقا کے ہاتھوں شکست بھارت کی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں 13 میچز کے بعد پہلی ہار تھی۔

رواں ایونٹ کے دوران بھارت کا ٹاپ آرڈر مسلسل مشکلات کا شکار رہا ہے اور حالیہ تین میچوں میں پہلے اوور میں وکٹ گنوانا بھارت کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔

بھارت کو سیمی فائنل میں جانے کی امید برقرار رکھنے کے لیے ویسٹ انڈیز اور زمبابوے کو لازمی ہرانا ہوگا۔ اگر بھارت ایک بھی میچ ہارا تو وہ سیمی فائنل کی دوڑ سے تقریباً باہر ہو جائے گا۔

اگر بھارت اپنے اگلے دونوں میچز جیت جائے اور جنوبی افریقا بھی اپنے اگلے دونوں میچز جیت لے تو جنوبی افریقا 6 پوائنٹس کے ساتھ پہلے اور بھارت 4 پوائنٹس کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہتے ہوئے سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کر جائے گا۔ اس صورت میں نیٹ رن ریٹ کا مسئلہ نہیں رہے گا۔

دوسری جانب بھارت کی دونوں میچ میں کامیابی اور جنوبی افریقا کی اپنے بقیہ دونوں میچز میں شکست سے بھارت اور ویسٹ انڈیز سیمی فائنل میں پہنچ جائیں گے۔

تاہم اگر بھارت اپنے دونوں میچ جیت جائے لیکن ویسٹ انڈیز جنوبی افریقا کو ہرا دے تو بھارت، جنوبی افریقا اور ویسٹ انڈیز تینوں کے 4، 4 پوائنٹس ہو سکتے ہیں۔ ایسی صورت میں فیصلہ نیٹ رن ریٹ پر ہوگا، جہاں بھارت کو نیٹ رن ریٹ بہتر کرنے کے لیے زمبابوے اور ویسٹ انڈیز کے خلاف بہت بڑے مارجن سے جیتنا ہوگا۔

زمبابوے کا نیٹ رن ریٹ ویسٹ انڈیز سے بڑے مارجن سے شکست کے بعد شدید متاثر ہوا ہے۔ زمبابوے کو اگلے مرحلے میں رسائی کے لیے بھارت اور جنوبی افریقا دونوں کو بڑے مارجن سے شکست دینا ضروری ہے۔

گروپ ٹو

سپر 8 مرحلے کے گروپ ٹو میں انگلینڈ سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کرنے والی پہلی ٹیم بن چکی ہے۔ جب کہ دوسری سیمی فائنلسٹ ٹیم کے لیے پاکستان، نیوزی لینڈ اور سری لنکا کے درمیان کانٹے کا مقابلہ جاری ہے۔

انگلینڈ نے سری لنکا اور پاکستان کے خلاف مسلسل فتوحات کے بعد سیمی فائنل میں جگہ پکی کی ہے۔ اب وہ گروپ میں ٹاپ پوزیشن کے لیے نیوزی لینڈ کا سامنا کرے گا۔

پاکستان کے خلاف میچ بارش کی نذر ہونے کے باعث نیوزی لینڈ کو ایک پوائنٹ ملا تھا۔ پاکستان کی دو میچز میں شکست کے بعد اب کیویز کے لیے سیمی فائنل میں رسائی کے لیے راستہ بالکل صاف ہے۔

سری لنکا اور انگلینڈ کے خلاف اپنے اگلے دونوں میچز میں فتح کی صورت میں نیوزی لینڈ 5 پوائنٹس کے ساتھ سیمی فائنل میں پہنچ سکتا ہے۔ دونوں میچز میں کسی ایک میں فتح کی صورت میں نیٹ رن ریٹ فیصلہ کُن کردار ادا کر سکتا ہے۔

پاکستان اس وقت غیر یقینی کی صورتِ حال کا شکار ہے اور اس کی سیمی فائنل تک رسائی کی امیدیں اب دوسری ٹیموں کے نتائج پر منحصر ہیں۔

پاکستان کا نیوزی لینڈ کے خلاف سپر ایٹ مرحلے کا پہلا میچ بارش سے متاثر ہوا جب کہ دوسرے میچ میں اسے انگلینڈ سے شکست ہوئی۔

اب اگر نیوزی لینڈ اپنے بقیہ دونوں میچز جیت لیتا ہے تو پاکستان ایونٹ سے باہر ہو جائے گا۔ تاہم کیوی ٹیم کی ایک یا دونوں میچز میں شکست کی صورت میں پاکستان کے لیے سیمی فائنل تک رسائی کا چانس برقرار رہے گا، تاہم فیصلہ نیٹ رن ریٹ پر منحصر ہوگا۔

پاکستان کو سیمی فائنل میں پہنچنے کے لیے اپنے آخری میچ میں سری لنکا کو بڑے مارجن سے شکست دینا ہوگی۔ دوسری صورت میں نیوزی لینڈ اپنے دونوں میچز ہار جائے یا کم از کم انگلینڈ سے بڑے مارجن سے شکست کھائے تو پاکستان کا بہتر رن ریٹ اسے سیمی فائنل تک پہنچانے میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔

آسٹریلیا کو شکست دینے کے بعد سری لنکا تسلسل برقرار نہ رکھ سکا اور زمبابوے و انگلینڈ سے ہار گیا۔ بیٹنگ میں عدم استحکام ٹیم کے لیے مسئلہ بنا ہوا ہے۔ سیمی فائنل کی دوڑ میں رہنے کے لیے سری لنکا کو اپنے اگلے دونوں میچز جیتنا ہوں گے۔

سری لنکا گروپ مرحلے میں آسٹریلیا کو شکست دینے کے بعد جیت کا تسلسل برقرار نہ رکھ سکا اور زمبابوے کے بعد انگلینڈ سے بھی ہار گیا۔

بیٹنگ میں عدم استحکام سری لنکن ٹیم کے لیے مسئلہ بنا ہوا ہے۔ سیمی فائنل کی دوڑ میں رہنے کے لیے سری لنکا کو اپنے اگلے دونوں میچز بڑے مارجن سے جیتنا ضروری ہیں اور ساتھ ہی انگلینڈ کی نیوزی لینڈ کے خلاف جیت کی امید کرنا ہوگی تاکہ وہ نیٹ رن ریٹ پر کوالیفائی کر سکیں۔

نیوزی لینڈ اور سری لنکا گروپ ٹو کے دوسرے میچ میں آج شام کولمبو میں آمنے سامنے آئیں گے، یہ میچ گروپ ٹو کی صورتحال کو واضح کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

Read Comments