اپ ڈیٹ 25 فروری 2026 10:35pm

آئینہ وزیر دوبارہ کرکٹ نہیں کھیلے گی: فیصل کریم کنڈی کا انکشاف

فیصل کریم کنڈی نے آج نیوز کے پروگرام ”اسپاٹ لائٹ“ میں انکشاف کیا ہے کہ آئینہ وزیر کی فیملی بہت ڈری ہوئی ہے۔ اب یہ بچی دوبارہ کرکٹ نہیں کھیلے گی۔

گورنر خیبر پختون خوا فیصل کریم کنڈی نے آج نیوز کے پروگرام ”اسپاٹ لائٹ“ میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی کوشش تھی کہ وزیرستان سے تعلق رکھنے والی ہونہار بچی آئینہ وزیر کو پشاور بلایا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ چاہتے تھے کہ محسن نقوی سے درخواست کریں کہ بچی کو باقاعدہ ٹریننگ دی جائے تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو نکھار کر پاکستان کا نام روشن کر سکے۔

گورنر کے پی کے مطابق آئینہ وزیر میں بے پناہ ٹیلنٹ موجود ہے اور اگر اسے مناسب تربیت اور مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ قومی سطح پر نمایاں مقام حاصل کر سکتی ہے۔ تاہم اب انہیں یہ پیغام ملا ہے کہ آئینہ وزیر کی فیملی بہت خوفزدہ ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ اہل خانہ نے واضح طور پر کہا ہے کہ موجودہ حالات کے پیش نظر آئینہ وزیر دوبارہ کرکٹ نہیں کھیلے گی۔

فیصل کریم کنڈی نے آج نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ افغانستان نے دہشت گردوں کو جگہیں دی ہیں، اس سے وہ ٹس سے مس نہیں ہو رہے، ہم نے جو ثبوت دیے، افغانستان نے ان پر کوئی ایکشن نہیں لیا۔ ڈی آئی خان، باجوڑ پھر بنوں میں جو واقعات ہوئے، اس سے قبل اسلام آباد کی امام بارگاہ پر حملہ ہوا، اس لیے پاکستان کو مجبوراً ردِ عمل دینا پڑا۔

گورنر خیبرپختونخوا نے سابق وزیراعلٰی علی امین گنڈاپور کی سیکیورٹی سے متعلق سوال پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ جب وہ خود وزیراعلیٰ تھے تو انہوں نے سابق وزرائے اعلیٰ سے سیکیورٹی واپس لینے کا حکم دیا تھا، آج وہ کس حیثیت سے سیکیورٹی مانگ رہے ہیں۔

فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ علی امین گنڈاپور کے دور میں تمام سابق وزرائے اعلیٰ کو سیکیورٹی حاصل تھی، اگرچہ اتنی بڑی تعداد میں نہیں تھی۔ تاہم گنڈاپور نے پہلا حکم یہی دیا کہ تمام سابق چیف منسٹرز سے سیکیورٹی واپس لی جائے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب آپ عہدہ چھوڑ گئے تو آپ کو بھی سیکیورٹی واپس کر دینی چاہیے تھی۔ کیا امیر حیدر ہوتی اور آفتاب شیر پاؤ اور دیگر وزرائے اعلیٰ کو خطرہ نہیں تھا؟ انہوں نے کہا کہ گنڈاپور کو اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے۔

گورنر کے پی نے مزید کہا کہ وہ پہلے بھی واضح کر چکے ہیں کہ جس روز پاکستان تحریک انصاف کو معلوم ہو جائے گا کہ ان کے اندر میر جعفر اور میر صادق کا کردار کون ادا کر رہا ہے تو وہ خود ان کے خلاف کارروائی کریں گے۔

انہوں نے موجودہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے حوالے سے کہا کہ وہ ایک سیاسی کارکن رہے ہیں اور اب وزیراعلیٰ بنے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے درمیان ذاتی نوعیت کا کوئی خاص تعلق نہیں، نہ وہ ان کے کاموں میں مداخلت کرتے ہیں اور نہ وہ ان کے معاملات میں دخل دیتے ہیں، تاہم صوبے کے امن کے لیے ہمیشہ مشورہ دیا ہے کہ مل کر کام کیا جائے۔

فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ انہیں خوشی ہوئی کہ وزیراعلیٰ نے وزیراعظم سے ملاقات کی، کیونکہ صوبے میں امن و امان اور ترقی کے لیے وفاق سے رابطہ ضروری ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ سیاسی جماعتیں اپنی اپنی پارٹی کے پلیٹ فارم سے انتخابات لڑتی ہیں، لیکن صوبے کے مفاد میں وفاق کے ساتھ مسائل کو دلائل کے ذریعے حل کرنا چاہیے، گالم گلوچ سے نہیں۔

Read Comments