امریکی خفیہ ایجنسی نے ایرانی جاسوس بھرتی کرنے کے لیے اشتہار دے دیا، رابطہ کیسے کیا جائے؟
امریکا کی خفیہ ایجنسی سنٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) نے سوشل میڈیا پر فارسی زبان میں ایک نیا پیغام جاری کیا ہے جس میں ایرانی شہریوں کو محفوظ طریقے سے رابطہ کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔ یہ پیغام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی موجودگی میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور امریکا و ایران کے درمیان جوہری پروگرام پر مذاکرات جاری ہیں۔
سی آئی اے نے اپنا فارسی زبان کا پیغام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز ایکس، انسٹاگرام، فیس بک، ٹیلی گرام اور یوٹیوب پر جاری کیا۔
پیغام میں ایرانی شہریوں کو ہدایت کی گئی کہ اگر وہ رابطہ کرنا چاہتے ہیں تو پہلے اپنی حفاظت کو یقینی بنائیں، دفتری کمپیوٹر یا ذاتی موبائل فون استعمال نہ کریں اور ممکن ہو تو نیا اور عارضی ڈیوائس استعمال کریں۔
پیغام میں مزید کہا گیا کہ اردگرد کے ماحول پر نظر رکھیں اور اس بات کا خیال کریں کہ کوئی ان کی اسکرین یا سرگرمی نہ دیکھ سکے۔
پیغام میں یہ بھی کہا گیا کہ رابطہ کرنے والے افراد اپنی لوکیشن، نام، عہدہ اور ایسی معلومات یا مہارتوں کی تفصیل فراہم کریں جو ادارے کے لیے دلچسپی کا باعث ہوں۔
سی آئی اے نے مشورہ دیا کہ رابطے کے لیے ایسا قابلِ اعتماد ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک استعمال کیا جائے جس کا صدر دفتر روس، ایران یا چین میں نہ ہو، یا پھر ٹور نیٹ ورک استعمال کیا جائے جو ڈیٹا کو خفیہ بناتا اور صارف کا آئی پی ایڈریس چھپاتا ہے۔
خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق، سی آئی سے نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کردیا ہے جبکہ اقوام متحدہ میں ایران کے مشن کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
یہ اقدام ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی حالیہ اسٹیٹ آف دی یونین تقریر میں کہا کہ وہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو امریکا ممکنہ کارروائی پر غور کر سکتا ہے۔
ایران کی جانب سے بارہا کہا گیا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کر رہا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق سی آئی اے کا یہ نیا پیغام سفارتی کوششوں اور ممکنہ دباؤ کی حکمت عملی کا حصہ ہو سکتا ہے۔