شائع 27 فروری 2026 01:32pm

سینیٹ میں افغانستان کی دراندازی کے خلاف مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظور

سینیٹ نے مغربی سرحد پر افغانستان کی جارحیت کے خلاف متفقہ مذمتی قراراد منظور کر لی۔

قرارداد میں سرحدی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے کی مذمت کی گئی اور عالمی برادری سے افغان طالبان کے طرزِ عمل کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا گیا۔

قرارداد سینیٹر شیری رحمان نے ایوان بالا میں پیش کی۔ متن کے مطابق سینیٹ نے دراندازی کے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے ان کارروائیوں کے دوران شہید ہونے والے افواجِ پاکستان کے جوانوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔

قرارداد میں کہا گیا کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے اور اس معاملے پر عالمی برادری اپنی ذمہ داری ادا کرے۔

سینیٹر شیری رحمان نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح معرکہ حق میں بھارت کو آئین کے آرٹیکل 51 کے تحت جواب دیا گیا تھا، اسی طرح موجودہ صورتحال میں بھی پاکستان اپنے آئینی حق کے مطابق ردِعمل دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرحدوں پر تعینات پاک فوج کے جوانوں کے لیے پوری قوم دعاگو ہے۔

اپوزیشن کی جانب سے بھی قرارداد کی حمایت کی گئی۔ سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ جب بات ملک کی ہو تو ہم سب متحد ہو کر مقابلہ کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے مسئلے کا مستقل حل تلاش کرنا ہوگا تاکہ ملک میں امن و استحکام قائم رہ سکے۔

چئیرمین سینٹ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ سینیٹ آف پاکستان پاک فوج کے ساتھ کھڑی ہے، پاک فوج نے دہشتگردوں کیخلاف جو حالیہ کاروائی کی ہے سینٹ اس کی بھرپور حمایت کرتی ہے، سینٹ کا اجلاس پیر کی دوپہر دو بجے تک ملتوی کردیا گیا۔

Read Comments