اپ ڈیٹ 27 فروری 2026 09:59pm

وزیرِاعظم کا جی ایچ کیو کا دورہ، افغان طالبان رجیم کو مؤثر جواب دینے پر افواجِ پاکستان کی تعریف

وزیرِاعظم شہباز شریف نے راولپنڈی میں جی ایچ کیو کا دورہ کیا جہاں عسکری قیادت نے انہیں پاک افغان صورت حال پر بریفنگ دی۔ وزیرِاعظم نے پاکستان کے خلاف کارروائیوں کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے زیرو ٹالرنس پالیسی اپنانے کی ہدایت کی۔

وزیرِاعظم شہباز شریف نے راولپنڈی میں جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) کا دورہ کیا جہاں انہیں پاک افغان سرحدی صورت حال اور سیکیورٹی امور پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ عسکری قیادت نے وزیرِاعظم کو موجودہ حالات اور پیشہ ورانہ تیاریوں سے آگاہ کیا۔

وزیرِاعظم شہباز شریف نے کہا افغان طالبان رجیم اور فتنہ الخوارج کی جانب سے پاکستان کے خلاف کارروائیاں ناقابل قبول ہیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ فتنہ الخوارج اور افغان طالبان رجیم کے گٹھ جوڑ اور شرپسند عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے۔

انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں افواج پاکستان ملک کی حفاظت کے لیے ہر دم تیار ہیں اور پاکستان کسی بھی جارحیت کے خلاف اپنا دفاع کرنا بخوبی جانتا ہے۔

وزیرِاعظم نے بھرپور جوابی کارروائی پر افواج پاکستان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ قوم ارض وطن کے دفاع کے لیے افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔

واضح رہے کہ جمعرات کی رات پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی جانب سے بلا اشتعال جارحیت کے خلاف پاکستان کی مسلح افواج نے آپریشن غضب للحق کے تحت افغانستان کی حدود کے اندر مختلف مقامات پر جوابی کارروائیاں کیں۔

ترجمان پاک فوج کے مطابق پاکستان کی جانب سے افغان طالبان کے حملوں کے جواب میں اب تک 274 طالبان رجیم کے اہلکار اور خوارج ہلاک جب کہ 400 سے زائد زخمی کردیے گئے ہیں۔

راولپنڈی میں جمعے کے روز پریس کانفرنس کے دوران پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے میڈیا کو یہ بھی بتایا کہ اب تک ہمارے 12 جوانوں نے جام شہادت نوش کیا، 27 زخمی اور ایک لاپتہ ہے۔

ترجمان پاک فوج کا کہنا ہے پاکستان اپنی پالیسی کے تحت کارروائیاں جاری رکھے گا۔ تمام سیاسی جماعتیں دہشت گردی کے خاتمے پر متفق ہیں اور قومی سلامتی کے معاملے پر اختلافات سے بالاتر ہو کر اتحاد کی ضرورت ہے۔

Read Comments