اپ ڈیٹ 28 فروری 2026 10:00am

ڈاکٹر نبیہا کے سُسر سنگین الزامات پر بول پڑے

معروف ماہرِ نفسیات اور ٹی وی شخصیت ڈاکٹر نبیہا علی خان کے سسر نے اپنی بہو کی جانب سے لگائے گئے تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دے دیا۔

ڈاکٹر نبیہا علی خان سوشل میڈیا پر اپنی منفرد رائے اور کھل کر اظہارِ خیال کی وجہ سے خاصی مقبول ہیں اور انہوں نے مختصر عرصے میں ایک نمایاں عوامی شناخت قائم کی ہے۔

چند ماہ قبل ڈاکٹر نبیہا علی خان نے اپنے قریبی دوست حارث کھوکھر سے شادی کی، جسے سوشل میڈیا پر کافی پذیرائی حاصل ہوئی۔ تاہم شادی کے کچھ ہی عرصے بعد دونوں میاں بیوی کے درمیان اختلافات کی خبریں سامنے آنے لگیں، اور معاملہ اب دونوں خاندانوں کے درمیان باقاعدہ الزامات اور وضاحتوں تک پہنچ چکا ہے۔

اب ڈاکٹر نبیہا علی خان کے سسر نے نجی چینل کے ایک پروگرام میں شرکت کرتے ہوئے اپنی بہو کی جانب سے لگائے گئے الزامات پر کھل کر گفتگو کی۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر الزامات میں کوئی حقیقت ہوتی تو وہ اسے وقتی ناراضی یا غلط فہمی سمجھتے، لیکن ان کے مطابق یہ صورتحال شاید شہرت حاصل کرنے، اپنے شوہر کو خاندان سے دور کرنے یا الگ رہائش اختیار کرنے کی کوشش کا حصہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر ڈاکٹر نبیہا اپنی بات مناسب انداز میں پیش کرتیں تو وہ ضرور ان کی بات پر غور کرتے، کیونکہ انہوں نے کبھی بھی مالی طور پر اپنے بیٹے یا بہو پر انحصار نہیں کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ گھر کے تمام بڑے اخراجات وہ خود برداشت کرتے ہیں، جبکہ حارث کی مالی شراکت نہ ہونے کے برابر ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر ان کا بیٹا خرچ نہ بھی دے تو انہیں کوئی اعتراض نہیں کیونکہ وہ اسے اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔

ڈاکٹر نبیہا کے سسر نے واقعہ کی تفصیلات دیتے ہوئے کہا کہ ایک جمعہ کے روز جب انہوں نے اپنے بیٹے کو نماز کے لیے ساتھ چلنے کا کہا تو حارث نے انہیں کمرے میں بلا کر شکایت کی کہ نبیہا کی جا نب سےدوبارہ شک اور بحث کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب صورتحال کشیدہ ہوئی تو انہوں نے اپنے بیٹے کو ڈانٹ کر خاموش کرایا اور دونوں نماز کے لیے روانہ ہو گئے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ نماز کے بعد جب وہ گھر واپس آئے اور کچھ دیر بعد باہر سے واپس لوٹے تو دیکھا کہ ڈاکٹر نبیہا اپنا سامان گاڑی میں رکھ رہی تھیں۔

ان کے مطابق انہوں نے اور ان کی اہلیہ نے انہیں ایسا کرنے سے روکنے کی کوشش کی، تاہم بعد میں مشورہ دیا کہ وہ کچھ دنوں کے لیے اپنے والدین کے گھر چلی جائیں تاکہ معاملات ٹھنڈے دماغ سے حل ہو سکیں۔ لیکن ڈاکٹر نبیہا نے عوامی سطح پر اس معاملے کو اچھالا۔

ڈاکٹر نبیہا علی خان کے سسر نے اس الزام کو بھی مسترد کیا کہ ان پر گھریلو کام کا غیر ضروری بوجھ ڈالا گیا۔ ان کے مطابق گھر میں تین ملازمائیں موجود ہیں جو تمام کام سنبھالتی ہیں اور ڈاکٹر نبیہا نے گھر کے معاملات میں عملی طور پر بہت کم حصہ لیا۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ان کا خاندان تعلیم یافتہ اور مہذب ہے اور انہوں نے کبھی بھی اپنی بہو کے ساتھ غیر مناسب رویہ اختیار نہیں کیا۔

ان کے مطابق موجودہ تنازع نے ان کے بیٹے کی روزمرہ زندگی کو بھی متاثر کیا ہ، اور وہ پہلے کی طرح اپنے پیشہ ورانہ امور پر توجہ نہیں دے پا رہے۔

سسر نے مزید کہا کہ ڈاکٹر نبیہا کوشک کی بیماری ہے۔ انہیں اپنے شوہر پر غیر ضروری شک رہتا تھا اور بعض اوقات وہ انہیں دوستوں کے ساتھ باہر جانے سے بھی روکتی تھیں۔ ان کے مطابق یہ صورتحال ازدواجی تعلقات میں کشیدگی کا باعث بنی۔

Read Comments