اپ ڈیٹ 28 فروری 2026 03:52pm

ایران کے قطر، ریاض، بحرین، کویت سمیت ابوظہبی میں امریکی تنصیبات پر حملے

امریکا اور اسرائیل کے ایران پر مشترکہ فضائی حملوں کے بعد خطے میں صورتحال مزید کشیدہ ہوگئی ہے، ایران کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں مختلف مقامات پر میزائل داغے گئے ہیں۔

قطر کے نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کے مطابق قطر میں قائم العبيد امریکی اڈہ زوردار دھماکوں سے گونج اٹھا اور امریکی اڈے کے قریب ایمرجنسی سائرن بجنا شروع ہو گئے۔

رپورٹ کے مطابق قطری حکام نے شہریوں کو فوجی مقامات سے دور رہنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ قطری حکومت نے شہریوں کو محفوظ مقامات پر پناہ لینے کے لیے موبائل فون الرٹ جاری کر دیے ہیں۔

غیر ملکی خبر ایجنسی نے ایک عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ قطری میزائل دفاعی نظام نے ایرانی میزائل حملہ ناکام بنا دیا ہے۔

الجریرہ کی رپورٹ کے مطابق بحرین نے بھی تصدیق کی ہے کہ امریکی بحریہ کے پانچویں بحری بیڑے کے ہیڈ کوارٹر کو میزائل حملے سے نشانہ بنایا گیا ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی اور دبئی میں بھی زوردار دھماکوں کی اطلاع ملی ہے۔

متحدہ عرب امارات کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایران کی جانب سے داغے گئے متعدد میزائلوں کو روک لیا گیا، تاہم اس واقعے کے نتیجے میں دارالحکومت ابو ظہبی میں ایک شخص ہلاک ہو گیا ہے۔

اس کے علاوہ سعودی شہر ریاض میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔

کویت میں بھی زوردار دھماکوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں جہاں سائرن بجنا شروع ہوگئے ہیں۔

ایران کی سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی کا دعویٰ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل اور امریکا کے تمام فوجی اہداف کو ”ایرانی میزائلوں کی بھرپور ضربوں“ سے نشانہ بنایا گیا ہے۔

پاسدارانِ انقلاب نے مزید کہا، ”یہ آپریشن دشمن کی فیصلہ کن شکست تک بلا تعطل جاری رہے گا“۔

بیان میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ پورے خطے میں موجود تمام امریکی اثاثوں کو ایرانی فوج کے لیے جائز اہداف تصور کیا جائے گا۔

رپورٹس کے مطابق کویتی افواج نے ایرانی میزائلوں کو فضا میں تباہ کردیا ہے اور مختلف علاقوں میں جنگی سائرن بجائے جارہے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ قطر، کویت اور متحدہ عرب امارات نے اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں۔

ایرانی نیوز ایجنسی فارس نے قطر میں العبيد، کویت میں ال سالم، یو اے ای میں ظفرہ ایئربیس اور بحرین میں پانچویں ایئربیس کو ایران کی طرف سے نشانہ بنائے جانے کی تصدیق کی ہے۔

ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ وہ آنے والے حالات کے لیے تیار رہے، اور ایران کا ردعمل عوامی ہوگا جس میں کوئی سرخ لکیر نہیں ہوگی۔

عہدیدار نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں موجود تمام امریکی اور اسرائیلی اثاثے اور مفادات اب جائز ہدف بن چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ جارحیت کے بعد کوئی سرخ لکیر باقی نہیں رہی اور ہر امکان موجود ہے، حتیٰ کہ ایسے منظرنامے بھی زیر غور آ سکتے ہیں جن پر پہلے کبھی غور نہیں کیا گیا تھا۔

ایرانی عہدیدار کا کہنا تھا کہ امریکا اور اسرائیل نے ایسی جارحیت اور جنگ کا آغاز کیا ہے جس کے اثرات وسیع اور طویل المدتی ہوں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مشترکہ امریکی۔اسرائیلی کارروائی پر ایران کو حیرت نہیں ہوئی اور اس کا ردعمل پیچیدہ ہوگا، جس کی کوئی وقت کی حد مقرر نہیں ہے۔

Read Comments