مشرق وسطیٰ میں امریکا کی کون سی تنصیبات ایران کے نشانے پر ہیں؟
ہفتے کے روز امریکا اور اسرائیل نے ایران کے متعدد شہروں پر بمباری کی، جس کے جواب میں تہران نے اسرائیل اور مشرق وسطیٰ میں ان تمام فوجی اڈوں پر میزائل داغے جہاں امریکی افواج موجود ہیں۔ ایران نے پہلے ہی خبردار کر دیا تھا کہ اگر اس پر حملہ ہوا تو وہ پورے خطے میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنائے گا۔
کونسل آن فارن ریلیشنز کے مطابق، امریکا خطے میں کم از کم 19 مقامات پر مستقل اور عارضی فوجی اڈوں کا ایک وسیع نیٹ ورک چلا رہا ہے۔ ان میں سے آٹھ مستقل اڈے بحرین، مصر، عراق، اردن، کویت، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں واقع ہیں۔
مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجیوں کی پہلی تعیناتی جولائی 1958 میں ہوئی تھی جب لبنان کے بحران کے دوران بیروت میں لڑاکا دستے بھیجے گئے تھے۔
مشرق وسطیٰ میں ہزاروں امریکی فوجی موجود ہیں، جو بڑے مستقل اڈوں اور چھوٹے مقامات پر تعینات ہیں۔ سب سے زیادہ امریکی فوجی قطر، بحرین، کویت، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب میں ہیں۔
خطے کے اہم امریکی فوجی اڈے
العدید ایئر بیس (قطر): 1996 میں قائم ہونے والا یہ مشرق وسطیٰ میں امریکی فوج کا سب سے بڑا فضائی اڈہ ہے۔ 24 ہیکٹر پر محیط اس بیس پر تقریباً 100 طیارے اور ڈرونز موجود ہیں۔ یہاں 10 ہزار فوجی تعینات ہیں اور یہ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کا ہیڈ کوارٹر ہے۔
نیول سپورٹ ایکٹیویٹی (بحرین): یہ امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے کا گھر ہے جہاں تقریباً نو ہزار اہلکار تعینات ہیں۔ بحرینی فوج نے تصدیق کی ہے کہ 28 فروری کو اس ایئر بیس پر حملہ کیا گیا ہے۔
کیمپ عارفجان (کویت): کویت سٹی سے 55 کلومیٹر دور یہ بیس 1999 میں تعمیر کیا گیا تھا۔ یہ مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی آپریشنز کے لیے لاجسٹکس اور سپلائی کا بنیادی مرکز ہے۔
الظفرہ ایئر بیس (متحدہ عرب امارات): یہ ایک اسٹریٹجک بیس ہے جو جاسوسی، انٹیلی جنس جمع کرنے اور فضائی آپریشنز کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہاں جدید ترین F-22 ریپٹر اسٹیلتھ فائٹرز اور نگرانی کرنے والے طیارے (AWACS) موجود ہیں۔
اربل ایئر بیس (عراق): یہ بیس شمالی عراق اور شام میں فضائی آپریشنز کے لیے استعمال ہوتا ہے، جہاں امریکی فوجی کرد اور عراقی افواج کو مشاورت فراہم کرتے ہیں۔