شائع 01 مارچ 2026 10:14am

خامنہ ای کی میت کی تصویر ٹرمپ اور نیتن یاہو کو دکھا دی گئی: اسرائیلی میڈیا کا دعویٰ

اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی میت کی تصویر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو دکھا دی گئی ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق اسرائیلی میڈیا نے بتایا کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی مبینہ لاش کی ایک تصویر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کو دکھائی گئی ہے۔ یہ دعویٰ دو اسرائیلی ٹیلی وژن نیٹ ورکس کی رپورٹس میں سامنے آیا ہے۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق نیتن یاہو نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ ایران پر حملوں میں پاسداران انقلاب کے کمانڈر اور سینئر جوہری کمانڈر بھی مارے گئے، ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے کمپائونڈ پر 30 بم گرائے گئے تھے۔

امریکا کے فوکس نیوز نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای مارے جا چکے ہیں، امریکی حکام کا ماننا ہے کہ خامنہ ای اور 5 سے 10 اعلیٰ ایرانی رہنما کمپاؤنڈ پر اسرائیلی حملے میں مارے گئے ہیں۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر علی شمخانی کو بھی نشانہ بنایا گیا، خامنہ ای کی میت کی تصویر امریکی صدر اور اسرائیلی وزیراعظم کو دکھا دی گئی، ایرانی سپریم لیڈر ساتھیوں کے ہمراہ زیر زمین بنکر میں تھے۔

ایرانی سفارتخانے کے مطابق سید مجتبیٰ خامنہ ای کے ساتھ ان کی اہلیہ زہراحداد عادل بھی شہید ہوئی ہیں، سید مجتبیٰ خامنہ ای سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای کے صاحبزادے تھے۔

چینل 12 کے مطابق ایک تصویر دکھائی گئی جس میں دعویٰ کیا گیا کہ خامنہ ای کی لاش موجود ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ اعلیٰ اسرائیلی حکام کو ان کی مبینہ ’خاتمے‘ سے آگاہ کر دیا گیا تھا۔

اسرائیلی پبلک براڈکاسٹر’کان‘کی رپورٹ کے مطابق حکام کو بتایا گیا کہ خامنہ ای کو ہدف بنایا گیا ہے اور ان کی لاش ان کے کمپاؤنڈ کے ملبے سے برآمد ہوئی۔ تاہم تہران کی جانب سے تاحال خامنہ ای کی موت کی کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

Read Comments