آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل کا بھرپور جواب دیا جائے گا، صدر مسعود پزشکیان
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے دعویٰ کیا ہے کہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل کو وہ ایک ’بڑا جرم‘ سمجھتے ہیں اور اس کا جواب دینے کا اعلان کیا ہے۔
صدارتی دفتر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق یہ واقعہ اسلامی دنیا کی تاریخ میں ایک نیا موڑ ثابت ہوگا۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ جرم کبھی جواب کے بغیر نہیں رہے گا اور اس کے ذمہ داروں کو نتائج بھگتنا ہوں گے۔ صدارتی دفتر نے مزید کہا کہ عوام اور عالمی سطح پر آزاد لوگوں کی حمایت کے ساتھ اس واقعے کے ذمہ داروں کو ان کے اقدامات پر پچھتانا پڑے گا۔ بیان میں سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے اسے امریکی اور اسرائیلی کارروائی سے جوڑا گیا۔
صدر پزشکیان نے ملک بھر میں سات روز کی عام تعطیل کا اعلان کیا ہے، جو پہلے سے اعلان کردہ چالیس روزہ سوگ کے علاوہ ہوگی۔ حکام کے مطابق سوگ اور تعطیل کا مقصد قومی سطح پر اظہارِ یکجہتی ہے۔
اسی دوران خطے میں کشیدگی کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ قطری دارالحکومت دوحا میں رہائشیوں نے کم از کم گیارہ دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاع دی ہے۔ سیکیورٹی ذرائع صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔
دوسری جانب اسرائیلی چینل 12 کے مطابق ایران کی جانب سے میزائل داغے جانے کے باعث اسرائیل بھر میں فضائی حملے کے سائرن بجنے لگے ہیں۔ حکام نے شہریوں کو حفاظتی اقدامات پر عمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔
رائٹرز خبر رساں ادارے نے بھی رپورٹ کیا ہے کہ دبئی میں متعدد بلند آوازیں سنی گئی ہیں۔ مقامی حکام صورتحال کی نگرانی کر رہے ہیں اور مزید معلومات کا انتظار ہے۔
فی الحال خطے میں حالات غیر یقینی ہیں اور مختلف ممالک کی جانب سے سرکاری بیانات اور تصدیق کا سلسلہ جاری ہے۔ عالمی برادری کشیدگی میں کمی اور سفارتی حل کی کوششوں پر زور دے رہی ہے تاکہ مزید نقصان سے بچا جا سکے۔