اپ ڈیٹ 01 مارچ 2026 01:07pm

خامنہ ای پر حملے کے لیے ہفتے کی صبح کا انتخاب کیوں کیا گیا؟

امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کو نشانہ بنانے کے لیے ہفتے کی صبح کا وقت کیوں چنا گیا، اس حوالے سے اہم تفصیلات سامنے آئی ہیں۔

خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق، جیسے ہی انٹیلی جنس ذرائع سے یہ تصدیق ہوئی کہ خامنہ ای اپنے اعلیٰ مشیروں کے ساتھ ایک میٹنگ کرنے والے ہیں، اسرائیل اور امریکا نے اپنی فضائی اور بحری کارروائی کا آغاز کر دیا۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس حملے کا بنیادی مقصد خامنہ ای کو اچانک نشانہ بنانا تھا تاکہ انہیں کہیں چھپنے کا موقع نہ مل سکے۔

رپورٹ کے مطابق، پہلے یہ توقع تھی کہ یہ اہم ملاقات ہفتے کی شام کو ہوگی، لیکن جب اسرائیلی خفیہ اداروں کو معلوم ہوا کہ ملاقات ہفتے کی صبح ہی ہو رہی ہے تو حملے کا وقت تبدیل کر دیا گیا۔

تہران میں خامنہ ای کے انتہائی محفوظ کمپاؤنڈ پر حملے کے ساتھ ہی اس آپریشن کا آغاز ہوا اور سیٹلائٹ تصاویر سے اس جگہ کی مکمل تباہی کی تصدیق ہوئی۔

حملے کے وقت خامنہ ای کے ساتھ ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سابق سیکرٹری علی شمخانی اور پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر محمد پاکپور بھی موجود تھے جو اس حملے میں مارے گئے، تاہم علی لاریجانی اس حملے میں بچ گئے اور انہوں نے سخت جوابی کارروائی کا عزم ظاہر کیا ہے۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ امریکی خفیہ ادارے ’سی آئی اے‘ نے ایرانی قیادت کے ایک خفیہ اجلاس کی نشاندہی کی تھی اور اسی معلومات کی بنیاد پر بعد میں حملہ کیا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی موجودگی کے بارے میں معلومات اسرائیل کے ساتھ شیئر کی گئیں جس کے بعد کارروائی عمل میں آئی۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق سی آئی اے کئی ماہ سے آیت اللہ خامنہ ای کی نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئے تھی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی حکام کو تہران میں ایک کمپاؤنڈ کے اندر ہونے والے خفیہ اجلاس کی اطلاع پہلے سے تھی اور اس بات کی تصدیق کی گئی کہ ایرانی سپریم لیڈر وہاں موجود ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سی آئی اے کو خامنہ ای کے روزمرہ معمولات اور ان کے خفیہ ٹھکانوں کے بارے میں تفصیلی معلومات حاصل ہو چکی تھیں۔ امریکی اور اسرائیلی انٹیلی جنس کے درمیان معلومات کے تبادلے کے بعد ہی حملہ کیا گیا۔

ایرانی سرکاری میڈیا نے اتوار کی صبح خامنہ ای کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے سوگ کا اعلان کیا اور ان کی وفات کو شہادت قرار دیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق اس حملے میں خامنہ ای کے خاندان کے کچھ افراد بھی جاں بحق ہوئے ہیں۔

اس حملے کے فوراً بعد ایران نے اسرائیل سمیت خطے کے کئی ممالک پر ڈرونز اور میزائلوں سے جوابی حملہ شروع کر دیا۔

Read Comments