خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایران میں فیصلے اب کون لے رہا ہے؟
امریکہ اور اسرائیل کے حملوں میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت نے ایرانی نظام کے اندر ایک بڑا خلا پیدا کر دیا ہے اور اب ان کے جانشین کی تلاش کا پیچیدہ عمل شروع ہو چکا ہے۔ ایران کی تاریخ میں نصف صدی کے دوران یہ صرف دوسرا موقع ہے جب رہبرِ اعلیٰ کا انتخاب کیا جا رہا ہے۔ 1989 میں جب پہلے رہبر روح اللہ خمینی کا انتقال ہوا تھا تو علی خامنہ ای کو فوری طور پر جانشین چن لیا گیا تھا، لیکن اس بار صورتحال مختلف ہے کیونکہ خامنہ ای نے کسی وارث کا باضابطہ اعلان نہیں کیا تھا۔
فی الوقت ملک کو چلانے کے لیے تین ارکان پر مشتمل ایک قیادت کونسل تشکیل دی گئی ہے۔ اس کونسل میں صدر مسعود پزشکیان، عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسن ایژہ ای اور ایک سینیئر مذہبی رہنما علی رضا اعرافی شامل ہیں۔
ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ ریاست نے ایسے حالات کے لیے پہلے سے منصوبہ بندی کر رکھی تھی اور اس کونسل کی تشکیل سے ملک میں اتحاد پیدا ہوگا۔
تاہم، ایران کے لیے بڑا چیلنج یہ ہے کہ ہفتے کے حملوں میں اس کی فوجی قیادت کا بڑا حصہ بھی ختم ہو چکا ہے، جن میں مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف اور پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ بھی شامل ہیں۔
نئے مستقل رہنما کا انتخاب 88 مذہبی علما پر مشتمل ایک ادارہ کرے گا جسے مجلسِ خبرگان یا اسمبلی آف ایکسپرٹس کہا جاتا ہے۔
یہ ارکان ہر آٹھ سال بعد عوامی ووٹوں سے منتخب ہوتے ہیں، لیکن ان کے ناموں کی منظوری ’گارڈین کونسل‘ دیتی ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ جب تک امریکی اور اسرائیلی حملے جاری ہیں، یہ اسمبلی شاید اپنا اجلاس نہ بلا سکے کیونکہ اسے مزید جانی نقصان کا ڈر ہے۔
جانشینی کی دوڑ میں چند نام نمایاں ہیں۔ علی خامنہ ای کے دوسرے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کے پاسدارانِ انقلاب اور بسیج فورس کے ساتھ گہرے روابط ہیں، لیکن ایران میں موروثی بادشاہت کے خاتمے کی تاریخ کو دیکھتے ہوئے شاید علما کسی بیٹے کو والد کا جانشین بنانے سے گریز کریں۔
دیگر امیدواروں میں علی رضا اعرافی اور محمد مہدی میر باقری شامل ہیں، جبکہ امام خمینی کے پوتے حسن خمینی کو بھی امیدوار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ کسی ایک شخص کے بجائے رہنماؤں کی ایک کونسل مستقل طور پر نظام سنبھال لے۔
دوسری طرف، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی عوام پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی حکومت کا تختہ الٹ دیں، تاہم ابھی تک ایران کی سڑکوں پر کسی بڑے عوامی احتجاج یا بغاوت کے آثار نظر نہیں آ رہے۔
سابق شاہِ ایران کے بیٹے رضا پہلوی کا نام بھی ایک ممکنہ متبادل کے طور پر لیا جا رہا ہے، لیکن تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کے اندر فی الحال کوئی ایسی منظم سیاسی قوت موجود نہیں جو موجودہ نظام کی جگہ لے سکے۔
اس بحرانی صورتحال میں اصل طاقت پسِ پردہ ’پاسدارانِ انقلاب‘ کے پاس رہنے کا امکان ہے۔ اگرچہ ان کے کئی سینیئر کمانڈر ہلاک ہو چکے ہیں، لیکن یہ ادارہ ایران کی معیشت اور سیکیورٹی پر گہری گرفت رکھتا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب نہ صرف بیرونی دشمنوں بلکہ اندرونی نظم و ضبط برقرار رکھنے کی بھی ذمہ دار ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ایران کا یہ نظام خود کو ٹوٹنے سے بچانے اور نئے سربراہ کے انتخاب میں کتنا کامیاب ہوتا ہے۔