شائع 02 مارچ 2026 03:24pm

’اسرائیل کی خوشنودی کے لیے ایران پر حملہ‘: ٹرمپ کو ساتھیوں کی مخالفت کا سامنا

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران پر حملے کے بعد مخالفین کے علاوہ قریبی ساتھیوں کی جانب سے بھی تنقید کی زد میں آگئے ہیں۔ ایران پر حملے میں امریکی شمولیت کو ملک کے لیے وار آف چوائس (مسلط کردہ جنگ) قرار دیا جارہا ہے۔

ڈیموکریٹ سینیٹر برنی سینڈرز نے ایکس پر بیان میں ردعمل دیا کہ ’ٹرمپ نے کہا کہ ہمیں ایران پر حملہ کرنا پڑا کیوں کہ اسے جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی‘۔ انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ یہ وہی صدر ہیں جنہوں نے گزشتہ سال کہا تھا کہ ایران کی جوہری تنصیبات کو ختم کر دیا گیا ہے۔

برنی سینڈر نے مزید لکھا کہ ویتنام اور عراق کے بعد اب ایران۔۔۔ ایک اور جھوٹ، ایک اور جنگ۔

ایران پر حملے کے بعد امریکی فوج کے تین اہلکاروں کی ہلاکت کی خبر سامنے آنے کے بعد تنقید کا دائرہ مزید پھیلنے کا امکان ہے۔

صدر ٹرمپ کی انتخابی مہم کے مشہور وعدے ’میک امریکا گریٹ اگین‘ (میگا) کی حمایت کرنے والے افراد بھی اب کھل کر ان پر تنقید کر رہے ہیں۔

ان کی قریبی ساتھی رہنے والی سابقہ کانگریکس وومن مارجوری ٹیلر گرین نے فوجیوں کی ہلاکت پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ بالکل غیر ضروری تھا۔

انہوں نے کہا کہ امریکی صدر، نائب صدر اور ڈائریکٹر نیشنل انٹیلی جنس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے جنگوں اور ’رجیم چینج‘ کے مسئلوں میں نہ الجھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اب ہم اپنے فوجی جوانوں کو کھو چکے ہیں۔

صدر ٹرمپ کے سابق چیف اسٹریٹجسٹ اور ’میگا تحریک‘ کے بااثر ترین رہنماؤں میں سے ایک اسٹیو بینن بھی اس معاملے پر ٹرمپ کے مخالف نظر آتے ہیں۔

اس کے علاوہ ایرک پرنس بھی واضح تنقید کرنے والے شخص بن کر ابھرے ہیں جو ماضی میں بدنام زمانہ تنظیم ’بلیک واٹر‘ کے ذریعے امریکا کی فوجی کارروائیوں کا حصہ رہے ہیں لیکن ایران پر حالیہ حملے پر ان کا مؤقف بہت مختلف ہے۔

ایرک پرنس نے اسٹیو بینن کے ہمراہ ایک پوڈ کاسٹ میں ایران میں جوہری ہتھیاروں کی موجودگی کے سوال پر کہا کہ ’ٹرمپ نے چند ماہ قبل بتایا تھا کہ ایران کا جوہری پروگرام تباہ کر دیا گیا ہے‘۔

انہوں نے کھلے لفظوں میں کہا کہ اس جنگ کا کوئی جواز نہیں بنتا تھا، یہ ہماری نہیں بلکہ اسرائیل کی جنگ تھی جس میں امریکا کو بھی گھیسٹا گیا ہے۔

ٹرمپ کی اپنی جماعت ری پبلکن کے رہنما اور امریکی ایوانِ نمائندگان کے رکن تھامس میسی بھی اس معاملے پر ٹرمپ پر برس پڑے ہیں۔

انہوں نے ایران پر حملہ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ’امریکہ فرسٹ‘ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کا فیصلہ کانگریس کی منظوری سے مشروط ہونا چاہئے تھا، وہ اس معاملے پر آواز اٹھائیں گے۔

امریکی سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کے چیئرمین مارک وارنر نے بھی ایک ٹی وی پروگرام میں ایران کی جانب سے حملے کے خدشے کو مسترد کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایسی کوئی انٹیلی جنس رپورٹ نہیں تھی جس سے ثابت ہوتا ہو کہ ایران امریکہ کے خلاف حملہ کرنے والا تھا۔

خبر رساں ادارے رائٹرز نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ امریکی حکام نے کانگریس کے سامنے تسلیم کیا ہے کہ ایران کی جانب سے امریکی افواج پر حملے کی کوئی انٹیلی جنس اطلاعات موجود نہیں تھیں، جس سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مؤقف پر بھی سوالات کھڑے ہوگئے ہیں۔

رائٹرزکے ہی ایک سروے کے مطابق 43 فیصد امریکی شہریوں نے ان حملوں کی مخالفت کی، 27 فیصد نے حمایت جب کہ 29 فیصد نے اس معاملے پرغیر یقینی کا اظہار کیا ہے۔

ایران کی جانب سے پیر کے روز میزائل اور ڈرون حملوں کی ایک نئی لہر میں خطے بھر میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے جس میں کویتی حکام کے مطابق متعدد امریکی جہاز بھی تباہ ہوئے ہیں۔

واضح رہے کہ صدر ٹرمپ اس وعدے پر اقتدار میں آئے تھے کہ وہ امریکہ کو نہ ختم ہونے والی جنگوں سے نکالیں گے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق حالیہ کشیدگی میں اب تک تین امریکی فوجی ہلاک جب کہ پانچ شدید زخمی ہوئے ہیں۔ اب مخالفین کے ساتھ ساتھ صدر ٹرمپ کے زیادہ تر حامی بھی اس حملے کو غیر ضروری اور امریکہ کے لیے نقصان دہ قرار دیتے نظر آرہے ہیں۔

Read Comments