ہیک شدہ ٹریفک کیمرے، امریکی انٹیلیجنس اور اسرائیلی اے آئی سسٹم: ایرانی سپریم لیڈر کو کیسے نشانہ بنایا گیا؟
امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو قتل کرنے میں امریکی انٹیلی جنس اور اسرائیلی ہیکنگ نے اہم کردار ادا کیا ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ’سی این این‘ کے مطابق، تہران کی سڑکوں پر لگے ٹریفک کیمروں نے اہداف کا براہِ راست منظر پیش کیا۔
رپورٹ میں ایک اسرائیلی اہلکار کے حوالے سے بتایا گیا کہ کئی سال پہلے ہیک کیے گئے ان کیمروں نے اسرائیل کو اس قابل بنایا کہ وہ شہر کا تفصیلی نقشہ تیار کرے، نقل و حرکت کے معمولات ریکارڈ کرے اور ایرانی دارالحکومت کے اندر ہونے والے واقعات کی ایک پیچیدہ اور مفصل تصویر کشی کر سکے۔
یہ کیمرے ایک بہت بڑے اور پیچیدہ نظام کا صرف ایک حصہ تھے، جس کی کچھ تفصیلات پہلی بار ’فنانشل ٹائمز‘ نے رپورٹ کی تھیں۔
اس نظام نے اسرائیل کو ”ہدف طے کرنے والی مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے لیس مشین“ تیار کرنے میں مدد کی، جو بڑے پیمانے پر ڈیٹا پروسیس کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
اس مشین میں بصری معلومات، انسانی ذرائع، سگنلز انٹیلیجنس، پکڑی گئی گفتگو، سیٹلائٹ کی تصاویر اور بہت کچھ ڈالا گیا۔
جواب میں، اس نے 14 ہندسوں والے گرڈ کوآرڈینیٹ کی صورت میں ہدف کا بالکل درست مقام فراہم کیا۔
معلومات کی اس بھاری مقدار کو ترتیب دینے اور اس کا تجزیہ کرنے کے لیے طاقتور کمپیوٹرز کی ضرورت تھی تاکہ اسرائیل کے مطلوبہ نتائج یعنی ”اہداف“ حاصل کیے جا سکیں۔
رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی ذرائع نے بتایا کہ گزشتہ دہائی کے دوران بنائے گئے اس نظام کو چلانے کے لیے ماہرینِ ٹیکنالوجی، ڈیٹا اینالسٹ اور انجینئرز پر مشتمل ایک ٹیم کی ضرورت ہوتی ہے جو حملے کی سفارشات کی تصدیق اور عمل کو بہتر بناتی ہے۔
اس نظام نے اسرائیل کی ایران کے اندرونی حلقوں میں اس دیرینہ رسائی کو مزید مضبوط کیا ہے جس کی بدولت وہ گزشتہ برسوں میں ایران کے کئی چوٹی کے ایٹمی سائنسدانوں اور حکام کو قتل کرنے، ملک کا ایٹمی آرکائیو چرانے اور تہران میں حماس کے سیاسی رہنما کو ہلاک کرنے میں کامیاب رہا ہے۔ اسرائیل کے لیے یہ نظام پہلے بھی خود کو ثابت کر چکا تھا۔
ایک اور اسرائیلی ذریعے نے بتایا کہ گزشتہ سال جون میں اسرائیل اور ایران کے درمیان ہونے والی 12 روزہ جنگ کے آغاز میں، اسرائیلی افواج نے پہلے بھی حملے میں یہی صلاحیتیں استعمال کیں، جس میں ایران کے اعلیٰ ترین فوجی افسر، پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ اور سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے ایک قریبی معاون سمیت دیگر افراد ہلاک ہوئے تھے۔
ہفتے کی صبح، جب امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف ایک بڑے مشترکہ حملے کا آغاز کیا، تو اس نظام کو ایک بار پھر استعمال میں لایا گیا۔
اس کارروائی کا بنیادی ہدف ایران کے اب مقتول سپریم لیڈر علی خامنہ ای تھے، جن کے بارے میں اسرائیلی حکام کا خیال تھا کہ وہ دن کے وقت خود کو کم غیر محفوظ محسوس کرتے تھے۔
اسرائیلی وزیرِ دفاع یواو گیلنٹ نے اس سے پہلے کہا تھا کہ اسرائیل کو جون میں سپریم لیڈر کو نشانہ بنانے کا موقع نہیں ملا کیونکہ غالباً وہ زیرِ زمین بنکروں میں چلے گئے تھے اور ان سے رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔
اب نہ صرف خامنہ ای بلکہ ایران کی اعلیٰ سیکیورٹی اور فوجی قیادت کو ختم کرنے کا موقع پیدا ہو گیا تھا، جن میں سے کئی ان افراد کے متبادل تھے جنہیں اسرائیل نے جون میں ہلاک کیا تھا۔
اگرچہ امریکا اور ایران کے درمیان تہران کے ایٹمی پروگرام پر مذاکرات جاری تھے، لیکن اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کا ماننا تھا کہ یہ مذاکرات ناکام ہونے والے ہیں۔
نیتن یاہو کے مطابق ایران حملے کا وقت آ چکا تھا۔ انہوں نے 11 فروری کو وائٹ ہاؤس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان نجی گفتگو تقریباً تین گھنٹے تک جاری رہی اور انہوں نے صرف ایک تصویر جاری کی۔
سی این این کے مطابق، یہ گفتگو جاری ایٹمی مذاکرات کے بارے میں نہیں تھی، بلکہ اس بارے میں تھی کہ ان مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں کیا ہوگا۔
نیتن یاہو نے ٹرمپ کو ایران کی فوجی صلاحیتوں کے بارے میں تازہ ترین خفیہ معلومات فراہم کیں۔ یہ ملاقات امریکا اور اسرائیل کے درمیان اعلیٰ سطح کے فوجی اور انٹیلیجنس مذاکرات کے سلسلے کی کڑی تھی جس کے بعد امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملے کا منصوبہ واضح ہوا۔
امریکی جنرل ڈین کین کے مطابق، جمعہ کی سہ پہر امریکی وقت کے مطابق 3 بج کر 38 منٹ پر ٹرمپ نے وہ حکم دیا جس نے ابتدائی حملوں کا آغاز کیا۔ پیغام میں کہا گیا تھا: ”آپریشن ایپک فیوری منظور کر لیا گیا ہے۔ واپسی کا کوئی راستہ نہیں۔ گڈ لک۔“
پیر کے روز ایک بریفنگ میں جنرل کین نے صحافیوں کو بتایا کہ ”یہ دن کے وقت کیا گیا ایک حملہ تھا جو اسرائیلی دفاعی افواج کے ایک ٹریگر ایونٹ پر مبنی تھا، جس میں امریکی انٹیلیجنس کمیونٹی نے مدد فراہم کی۔“
اگرچہ انہوں نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں، لیکن غالباً ان کا اشارہ اسرائیل کے اس حملے کی طرف تھا جس میں خامنہ ای اور ایران کے کئی اعلیٰ رہنما ہلاک ہوئے اور مبینہ طور پر اس میں خامنہ ای کے کمپاؤنڈ میں ان کی درست موجودگی کا پتہ لگانے کے لیے امریکی انٹیلیجنس سے مدد لی گئی تھی۔
اسرائیل نے چند گھنٹوں کے اندر ہی حملے کی کامیابی کا دعویٰ کیا، حالانکہ اسے یقین نہیں تھا کہ خامنہ ای ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس بات کی تصدیق اتوار کی صبح سویرے ہوئی جب ایران کے سرکاری میڈیا نے اعلان کیا: ”ایران کے سپریم لیڈر شہادت کے مرتبے پر فائز ہو گئے ہیں۔“