شائع 05 مارچ 2026 10:19am

عراقی کردوں نے ایران پر زمینی حملہ شروع کردیا، امریکی حکام کا دعویٰ

امریکی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ عراقی کرد جنگجوؤں نے ایران کے خلاف زمینی کارروائی شروع کر دی ہے اور ہزاروں افراد سرحد عبور کر کے ایرانی علاقوں میں داخل ہو رہے ہیں، تاہم ایرانی خبر ایجنسی نے ان اطلاعات کو مسترد کر دیا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق عراقی کرد جنگجوؤں نے ایران کے خلاف زمینی کارروائی شروع کر دی ہے۔ ایک امریکی اہلکار کے مطابق تقریباً ایک ہزار عراقی کرد جنگجو سرحد عبور کر کے ایرانی علاقوں میں داخل ہو چکے ہیں جبکہ ہزاروں دیگر بھی سرحد پار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ جنگجو ایران کے سرحدی علاقوں میں پیش قدمی کر رہے ہیں اور ممکنہ طور پر مزید کارروائیاں بھی کی جا سکتی ہیں۔

ادھر امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے کہا ہے کہ امریکی فوج ایران کے خلاف باغیوں کو مسلح نہیں کر رہی۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکی حکومت کے دیگر حصے ممکنہ طور پر اس عمل میں شامل ہو سکتے ہیں۔

پیٹ ہیگسیتھ کا کہنا تھا کہ امریکا ایران کے خلاف جنگ میں برتری حاصل کر رہا ہے اور جلد مزید حملوں کی نئی لہر شروع کی جا سکتی ہے۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے ایران میں امریکی زمینی فوج بھیجنے کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کی جانب سے اس وقت زمینی افواج بھیجنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

ترجمان وائٹ ہاؤس نے مزید کہا کہ آنے والے چند گھنٹوں میں فضائی برتری حاصل ہونے کی توقع ہے۔

ادھر ایرانی خبر ایجنسی نے سرحدی صوبوں میں کرد جنگجوؤں کے داخل ہونے کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی اطلاعات درست نہیں ہیں۔

اس کے علاوہ عراق کے کردستان ریجن کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے بھی سختی سے اس بات کی تردید کی ہے کہ ’عراقی‘ کرد اس مبینہ حملے میں شامل ہیں۔

Read Comments