پاکستان نے بگرام ایئربیس میں اپنا ٹارگٹ حاصل کرلیا: سیکیورٹی ذرائع

افغان طالبان کی ایمونیشن سپورٹ کا انفرا اسٹرکچر تباہ کردیا، پاکستان نے افغانستان کو دوٹوک جواب دیا: سییکیورٹی ذرائع
شائع 05 مارچ 2026 07:11pm

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان نے بگرام ایئربیس میں اپنا ٹارگٹ حاصل کرلیا، افغان طالبان کی ایمونیشن سپورٹ کا انفرا اسٹرکچر تباہ کردیا، پاکستان نے افغانستان کو دوٹوک جواب دیا۔

جمعرات کو سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ افغانستان کو کہہ دیا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی لیڈر شپ کو ہمارے حوالے کرو، اہداف کے حصول تک افغانستان میں ٹارگٹ آپریشن کرتے رہیں گے، افغان عوام رجیم چینج خود فیصلہ کریں، افغانستان ایمپائر کا قبرستان نہیں پلے گراؤنڈ ہے، ایمپائر افغانستان آتے ہیں اپنا کھیل کھیلتے ہیں، افغان رجیم کو جتنی مار پڑ رہی ہے اتنے ہی عیاں ہو رہی ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اب تک افغاننستان پر 58 کارروائیاں اور 226 پوسٹیں تباہ کرچکے ہیں اور 36 چیک پوسٹوں پر اپنا پرچم لہرایا، ٹی ٹی پی سے دھمکیوں کے پرچے جاری کروائے جارہے ہیں، افغانستان ماسٹر پراکسی بن گیا ہے۔

سیکیورٹی ذرائع نے مزید کہا کہ وادی تیراہ میں لاسٹ ٹیل آپریشن نہ کرنا تھا نہ کرنا ہے، ٹی ڈی پی کی واپسی کا فیصلہ صوبائی حکومت خود کرے گی۔ ہماری کارروائیوں کے بعد افغانستان کی جانب سے فائرنگ میں کمی آئی ہے۔

سیکیورٹی ذرائع نے یہ بھی کہا کہ ہماری بات سچ ثابت ہوئی کہ تیراہ میں کوین آپریشن نہیں ہورہا، اگر پاکستان میں دہشت گردی ہوگی تو افغانستان کو اس کی قیمت چکانا ہوگی۔ پہلے بھی بی ایل اے ایران سے آپریٹ ہوتی رہی اگر اب بھی ہو تو کیا فرق پڑے گا۔ افغانستان کے ساتھ انٹیلی جنس سطح پر مطالبات کج شیئرنگ جاری ہے۔

آپریشن غضب للحق کے تناظر میں آئی ایس پی آر کی اہم نشست

خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع کے صحافیوں کی آپریشن غضب للحق کے تناظر میں آئی ایس پی آر کی اہم نشست ہوئی ہے، جس میں بتایا گیا کہ پاکستان کو افغانستان اور افغان عوام کے ساتھ کوئی مسئلہ نہیں ہے، افغان طالبان رجیم خطے میں دہشت گردی کی ایک مرکزی “پراکسی ماسٹر” کے طور پرکام کر رہی ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ ریجیم متعدد دہشت گرد تنظیموں کی سہولت کاری سے علاقائی امن و استحکام کے لیے خطرہ بن چکا ہے، افغان طالبان رجیم کو پاکستان یا دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوگا، آپریشن غضب للحق پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کا ہی ایک تسلسل ہے۔

سیکیورٹی ذرائع نے کہا کہ آپریشن غضب للحق افغان طالبان رجیم کی طرف سے دہشت گردی کی سرپرستی کے مکمل خاتمے کی قابل یقین ضمانت اور عملی اقدامات تک جاری رہے گا، ہمیں کوئی جلدی نہیں، خوارج اسلام کی ایک مسخ شدہ اور خود ساختہ اسلامی نظریے کی ترویج کر رہا ہے، اسلام کا دہشت گردی اور خودکش حملوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سیکیورٹی ذرائع نے مزید کہا کہ معصوم انسانی جانوں کا قتل عام، خواتین پر مظالم ، مساجد پر حملے اور ان کا دہشت گردی کی کاروائیوں کے لیے استعمال ہماری مذہبی اور معاشرتی روایات کے منافی ہے، ایسے خود ساختہ مذہبی عقائد کا پرچار کرنے والے خوارجیوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، تمام مکتبہ فکر کے علماء نے ان خوارج اور ان کے سرپرستوں کے خلاف جنگ کو افضل جہاد قرار دیا ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان دہشت گردی میں ملوث فتنہ الخوارج اورفتنۃ الہندوستان کے ٹھکانوں، سہولت کاری کے مراکز اور بارڈر سے متصل لانچنگ پیڈز کو نشانہ بنا رہا ہے، پاکستان تمام کاروائیاں مستند انٹیلی جنس کی بنیاد پر صرف دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور سہولت کاری کے مراکز کے خلاف کر رہا ہے، ان آپریشنز میں سویلین آبادیوں کو نشانہ بنانے کے تاثر پر مبنی رپورٹس نہ صرف حقائق کے منافی بلکہ دہشت گردی کے نتیجے میں معصوم پاکستانی جانوں کے ضیاع سے رو گردانی کے مترادف ہیں۔

سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ شفاف رپورٹنگ کے تقاضوں کے پیش نظر وزارتِ اطلاعات اور سیکورٹی ادارے باقاعدگی سے آپریشن غضب للحق کی پیش رفت سے میڈیا اور عوام کو آگاہ کر رہی ہے۔ ان کارروائیوں کی مستند ویڈیو رپورٹس بھی ساتھ جاری کی جا رہی ہیں، افغانستان کے طالبان ریجیم کے ہاتھوں زیر عتاب طبقات غضب للحق کو خوش آئند پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔

سیکیورٹی ذرائع نے کہا کہ آپریشن غضب للحق کے دوران افغان آفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور انکے ہندوستانی سرپرست میڈیا کی طرف سے جھوٹی اورمن گھڑہت افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں، افغانستان میں موجود دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور سہولت کاری کے مراکز کے علاوہ پاکستان کے اندر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن بھی جاری ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر 200 سے زائد آئی بی اوز کامیابی کے ساتھ کئے جا رہے ہیں، باہمی اتحاد اور نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عمل درآمد دہشت گردی کے خاتمے کیلئے ناگزیر ہے۔

سیکیورٹی ذرائع نے مزید کہا کہ ایران اور خطے کے حالات کے تناظر میں پاکستان کی سلامتی کو خطرہ قرار دینے والے احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں، پاکستان تمام طاقتوں اور ممالک کے ساتھ تعمیری اور مثبت روابط پر یقین رکھتا ہے اور اپنی سالمیت اور خودمختاری کے دفاع کیلئے ہمہ وقت تیار ہے۔

Read Comments