ایران کے آئندہ رہنما کے انتخاب میں ہمارا کردار ہوگا: ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا ایران کے آئندہ رہنما کے انتخاب کے عمل میں کردار ادا کرے گا، تاہم اس عمل کا آغاز ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کو دیے گئے ایک ٹیلیفونک انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایران کی مستقبل کی قیادت کے تعین کے عمل میں شامل ہونا چاہتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکا چاہتا ہے کہ ایسا شخص ایران کی قیادت سنبھالے جو ملک اور عوام کے لیے بہتر ثابت ہو۔
ٹرمپ کے مطابق ہم اس عمل میں شامل ہونا چاہتے ہیں جس کے ذریعے اس شخص کا انتخاب کیا جائے گا جو ایران کو مستقبل میں قیادت فراہم کرے گا۔ ہمیں ہر پانچ سال بعد دوبارہ اسی مسئلے سے نہیں گزرنا چاہیے۔ ہمیں ایسا رہنما چاہیے جو عوام اور ملک دونوں کے لیے بہتر ہو۔
امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ نئے رہنما کے انتخاب کا مرحلہ ابھی بہت ابتدائی ہے۔
انٹرویو کے دوران ٹرمپ نے یہ بھی اشارہ دیا کہ ایران کے مقتول سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کے ایران کے اگلے سپریم لیڈر بننے کے امکانات کم ہیں۔
دوسری جانب مجتبیٰ خامنہ ای کو اپنے والد کے جانشین کے طور پر نمایاں امیدوار سمجھا جا رہا ہے۔
وہ کئی برسوں سے ایران کی طاقتور پاسدارانِ انقلاب کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کرتے رہے ہیں اور مذہبی و علما کے حلقوں میں بھی اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔
مجتبیٰ خامنہ ای کو سخت گیر مؤقف رکھنے والی شخصیت سمجھا جاتا ہے اور اگر انہیں ایران کا سپریم لیڈر منتخب کیا جاتا ہے تو اسے ایک مضبوط اور چیلنجنگ سیاسی پیغام تصور کیا جائے گا۔
فی الحال ایران کی جانب سے نئے سپریم لیڈر کے بارے میں کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا ہے۔