بھارتی طیاروں کی تباہی کی وجہ بھارت میں بننے والے انجن ہیں: بی بی سی رپورٹ

ابتدا میں یہ طیارہ روسی کمپنی سخوئی کی جانب سے براہ راست درآمد کیا جاتا تھا، تاہم بعد میں بھارت نے اس کی تیاری کا لائسنس حاصل کر لیا۔
شائع 07 مارچ 2026 12:38pm

بھارتی فضائیہ کے ایک جدید لڑاکا طیارے ’سخوئی 30 ایم کے آئی‘ کے حادثے کے بعد اس کے انجن اور تکنیکی مسائل پر نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔

بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارتی فضائیہ کا ایس یو 30 ایم کے آئی جمعہ کو طیارہ ریاست آسام کے ضلع کاربی اینگلونگ میں گر کر تباہ ہو گیا جس کے نتیجے میں سکواڈرن لیڈر انوج اور فلائٹ لیفٹیننٹ پوریش دراگکر ہلاک ہو گئے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایس یو 30 ایم کے آئی طیارہ بھارتی فضائیہ کے جنگی بیڑے میں انتہائی اہمیت رکھتا ہے اور اسے فضائیہ کی ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، یہ ملٹی رول فائٹر جیٹ ہے جو مختلف قسم کے فوجی مشنز انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ طیارہ پہلی بار 1990 کی دہائی کے آخر میں بھارتی فضائیہ میں شامل کیا گیا تھا۔

بی بی سی نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ ابتدا میں یہ طیارہ روسی کمپنی سخوئی کی جانب سے براہ راست درآمد کیا جاتا تھا، تاہم بعد میں بھارت نے اس کی تیاری کا لائسنس حاصل کر لیا۔

اس کے بعد سرکاری دفاعی ادارے ’ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ‘ نے بنگلور اور ناسک میں اس طیارے کی مقامی سطح پر تیاری شروع کر دی۔

رپورٹ کے مطابق اس طیارے کا انجن بھی اب بھارت میں ہی تیار کیا جاتا ہے۔

دفاعی تجزیہ کار راہول بیدی نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایس یو 30 ایم کے آئی طیارہ بھارتی فضائیہ کے فرنٹ لائن جنگی بیڑے کی بنیاد ہے، اس لیے اس کا حادثہ بہت سنجیدہ معاملہ سمجھا جاتا ہے۔

ان کے مطابق حادثے کے بعد بھارتی فضائیہ نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور توقع ہے کہ چار سے پانچ ماہ میں تحقیقاتی رپورٹ سامنے آ جائے گی جس سے حادثے کی اصل وجہ معلوم ہو سکے گی۔

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق بھارت کے پاس ایک وقت میں ایس یو 30 ایم کے آئی طیاروں کی تعداد 272 تھی، تاہم مختلف حادثات کے باعث اب یہ تعداد کم ہو کر تقریباً 260 رہ گئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق سنہ 2009 سے اب تک درجن سے زیادہ ایسے طیارے مختلف حادثات میں تباہ ہو چکے ہیں۔

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارتی فضائیہ عموماً طیاروں کے حادثات کی تحقیقات تو کرتی ہے لیکن ان کی تفصیلی رپورٹ عام طور پر عوام کے سامنے نہیں لائی جاتی۔

تاہم بی بی سی نے صنعتی ذرائع کے حوالے سے کہا کہ بعض حادثات کی ایک ممکنہ وجہ طیارے کے انجن میں پیدا ہونے والی تکنیکی خرابی بھی ہو سکتی ہے۔

Read Comments