آبنائے ہرمز بحران: پاکستان کو روسی تیل سپلائی کیا جائے گا، روسی میڈیا
مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کے باعث پاکستان سمیت دنیا بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کے بحران کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ اسی پس منظر میں روسی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کو جلد روسی خام تیل کی سپلائی کی جائے گی اور تقریباً سات لاکھ تینتیس ہزار بیرل تیل جلد پورٹ قاسم بندرگاہ پہنچنے کا امکان ہے۔
روسی میڈیا کے مطابق گلوبل انرجی امور کے ماہر ڈاکٹر ممودہ سلامے نے کہا ہے کہ پاکستان طویل عرصے سے اپنی تیل کی ضروریات پوری کرنے کے لیے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات پر زیادہ انحصار کرتا رہا ہے۔ تاہم حالیہ برسوں میں پاکستان نے روس سے بھی خام تیل خریدنے کا تجربہ کیا ہے اور موجودہ صورتحال میں یہ سپلائی پاکستان کے لیے اہم ثابت ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ امریکا روسی تیل پر عائد پابندیوں کو نرم کرنے کے معاملے پر غور کر رہا ہے۔
ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایک روز قبل امریکا نے عارضی طور پر بھارت کو روس سے تیل خریدنے کی اجازت دی تھی۔
ماہرین کے مطابق اگر پابندیوں میں نرمی آتی ہے تو عالمی توانائی منڈی میں تیل کی سپلائی کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
پاکستان بزنس کونسل کے مطابق عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ پاکستان کی معیشت پر براہ راست اثر ڈالتا ہے۔
اندازوں کے مطابق عالمی قیمتوں میں ہر دس فیصد اضافہ پاکستان کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں ڈیڑھ سے دو ارب ڈالر تک اضافہ کر سکتا ہے۔
اگر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں سو ڈالر فی بیرل تک پہنچ جائیں تو پاکستان کا سالانہ خسارہ پانچ سے سات ارب ڈالر تک بڑھنے کا خدشہ ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی نے توانائی کی عالمی منڈی کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ایران کی جانب سے اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کی بندش نے دنیا بھر میں تیل کی سپلائی کے بارے میں خدشات پیدا کر دیے ہیں۔
آبنائے ہرمز تقریباً بائیس کلومیٹر چوڑی ایک اہم سمندری گزرگاہ ہے جہاں سے دنیا کو تقریباً اکیس فیصد خام تیل اور لگ بھگ تیس فیصد ایل این جی فراہم کی جاتی ہے۔
روزانہ تیس سے چالیس بڑے آئل ٹینکر اسی راستے سے گزرتے ہیں جبکہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر سمیت کئی خلیجی ممالک کی برآمدات بھی اسی راستے پر منحصر ہیں۔
حالیہ کشیدگی اور ممکنہ رکاوٹوں کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
صرف ایک ہفتے کے دوران قیمتوں میں تقریباً تیس فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ چند ہی دنوں میں فی بیرل قیمت دس سے تیرہ ڈالر تک بڑھ چکی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آئل ٹینکرز کو متبادل اور طویل راستے اختیار کرنے پڑے تو قیمتوں میں مزید اضافے کا امکان بھی موجود ہے۔