’تہران اب ہمسایہ ممالک کو نشانہ نہیں بنائے گا‘: ایران نے پڑوسیوں سے معافی مانگ لی
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اُن ہمسایہ ممالک سے معافی مانگی ہے جہاں اسرائیل اور امریکا کے ساتھ جاری جنگ کے دوران ایرانی حملے ہوئے۔
ایرانی صدر نے سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والے ایک خطاب میں کہا کہ تہران اب کسی بھی ہمسایہ ملک کو نشانہ نہیں بنائے گا بشرطیکہ ایران پر حملہ ان ممالک کی سرزمین سے نہ کیا جائے۔
انہوں نے بتایا کہ عبوری قیادت کی کونسل نے گزشتہ روز اتفاق کیا ہے کہ اب پڑوسی ممالک پر کوئی میزائل نہیں داغا جائے گا جب تک کہ وہاں موجود فوجی اڈوں کو ایران کے خلاف استعمال نہ کیا جائے۔
اس بیان کو موجودہ کشیدہ صورتحال میں تناؤ کم کرنے کی ایک چھوٹی سی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کیونکہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کو شروع ہوئے آٹھ دن گزر چکے ہیں۔
اپنے پانچ منٹ کے ریکارڈ شدہ خطاب میں صدر پزشکیان نے جہاں ایک طرف معافی مانگی، وہیں دوسری طرف دشمنوں کو کڑا پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ایران کسی صورت ہتھیار نہیں ڈالے گا۔
انہوں نے واشنگٹن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی عوام کو سرنڈر دیکھنے کی خواہش دشمن اپنے ساتھ قبر میں لے جائیں گے۔
ایرانی صدر نے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حملوں میں رہائشی علاقوں، اسکولوں اور ہسپتالوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے عوام سے ملک کی خودمختاری کے دفاع کے لیے متحد ہونے کی اپیل کی۔
واضح رہے کہ ایران اپنے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی ہلاکت کا بدلہ لینے کے لیے ایک ہفتے سے میزائل حملے کر رہا ہے۔
ان ایرانی حملوں کی زد میں دبئی، ابوظہبی، قطر، کویت اور بحرین جیسے خلیجی ممالک آئے ہیں جہاں سے بڑے پیمانے پر تباہی کی ویڈیوز سامنے آئی ہیں۔
امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کو ’آپریشن ایپک فیوری‘ کے تحت ایران کے 170 سے زائد شہروں پر فضائی حملے کیے تھے۔ تہران میں ہونے والے انہی حملوں میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای، ان کی اہلیہ، بیٹی، داماد اور نواسی مارے گئے تھے۔