روس انٹیلی جنس شیئر کر بھی رہا ہو تو ایران کو کوئی فائدہ نہیں ہو رہا: ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر روس ایران کو مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اہلکاروں اور تنصیبات کے بارے میں معلومات فراہم بھی کر رہا ہے تو اس کا ایران کی کارروائیوں پر زیادہ اثر نہیں پڑ رہا۔
ایسو سی ایٹڈ پریس کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایئر فورس ون میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہا کہ اگر ایران کو معلومات مل بھی رہی ہیں تو گزشتہ ہفتے کی صورتحال دیکھیں تو اس سے ایران کو زیادہ فائدہ نہیں ہوا۔
ٹرمپ نے روس کے تعاون کے اثرات سے متعلق سوال پر بھی کہا کہ روس کہہ سکتا ہے کہ امریکا بھی اسی طرح کام کرتا ہے اور اس پر کچھ خاص فرق نہیں پڑتا۔
انہوں نے یوکرین کی مثال دی جہاں روسی حملوں کے بعد امریکا نے چار سال میں یوکرین کو دفاع اور ہدف نشانے کی معلومات فراہم کی ہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں دلچسپی نہیں رکھتے اور امکان ظاہر کیا ہے کہ جنگ اس وقت ختم ہو سکتی ہے جب ایران کی فوجی طاقت ختم ہو جائے یا ملک میں موجودہ قیادت اقتدار میں نہ رہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران کی فوج تباہ ہو جائے اور ممکنہ قیادت ختم ہو جائے تو بات چیت بے معنی ہو سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ’کسی وقت شاید ایسا ہو کہ کوئی باقی ہی نہ بچے جو کہہ سکے کہ ہم ہتھیار ڈال دیتے ہیں‘۔