ایران کا امریکہ پر جزیرہ قشم میں میٹھے پانی کے پلانٹ پر حملے کا الزام
ایران کے وزیرخارجہ عباس عراقچی نے کہا امریکا نے جزیرہ قشم میں صاف پانی کے پلانٹ پر حملہ کرکے جرم کا ارتکاب کیا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پر ایک پیغام جاری کرتے ہوئے امریکا پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے قشم جزیرے پر واقع پانی صاف کرنے والے ایک پلانٹ کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 30 گاؤں میں پینے کے پانی کی فراہمی متاثر ہوگئی ہے۔
عباس عراقچی نے کہا کہ ’امریکا نے صاف پانی کے پلانٹ پر حملہ کرکے ایک نیا اور سنگین جرم کیا ہے، یہ حرکت ایک غمناک اور مایوس کن اقدام ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ اس حملے سے ایران کے انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا ہے اور اس کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔ عراقچی نے امریکا پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’ایران کے انفراسٹرکچر پر حملے ایک خطرناک حرکت ہے جس کے سنگین نتائج ہوں گے، اور یہ عمل امریکا نے شروع کیا ہے نہ کہ ایران۔‘
قشم جزیرہ ایران کے جنوبی حصے میں واقع ہے اور یہ اسٹریٹجک اہمیت کا حامل ہے۔ پانی صاف کرنے کے پلانٹس علاقے کے لوگوں کے لیے پینے کے پانی کی اہم فراہمی کا ذریعہ ہیں، اور ان پر حملہ ایک بڑے انسانی بحران کو جنم دے سکتا ہے۔
ایران نے اس حملے کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے امریکا کی کارروائی کی سخت مذمت کی ہے۔ ایران کے حکام کا کہنا ہے کہ اس طرح کی کارروائیاں خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہیں اور اس کے نتیجے میں خطے کی معاشی اور انسانی صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔