امریکا کا ایران کی شہری آبادی کو نشانہ بنانے اور یورینیم قبضے میں لینے کا منصوبہ
امریکی فوجی حکام اور سیاست دانوں کا کہنا ہے کہ ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں کے حوالے سے خدشات موجود ہیں جبکہ دوسری جانب ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں بھی نئی حکمت عملی زیر غور ہونے کی اطلاعات ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے بعض حملے شہری علاقوں کے قریب سے کیے جا رہے ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق اگر کسی جگہ سے فوجی کارروائی کی جا رہی ہو تو بین الاقوامی قوانین کے تحت اسے نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
اسی تناظر میں امریکی فوج نے ایرانی شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور ممکنہ خطرات کے پیش نظر گھروں کے اندر رہنے کو ترجیح دیں۔
امریکی فوجی حکام نے یہ بھی کہا کہ موجودہ صورتحال میں وہ ایران کے عام شہریوں کی حفاظت کی ضمانت نہیں دے سکتے۔
دوسری جانب بعض امریکی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران میں ایک خصوصی مشن بھیجنے کے امکان پر غور کر رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق اس مشن میں جوہری امور کے ماہرین اور سائنسدان بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ تاہم اس بارے میں کوئی باضابطہ سرکاری اعلان سامنے نہیں آیا۔
امریکی حکام کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے چند اہم سوالات زیر بحث ہیں۔
ایک امریکی عہدیدار کے مطابق سب سے پہلا سوال یہ ہے کہ ایران کے پاس موجود افزودہ یورینیم اس وقت کہاں موجود ہے۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ اس تک رسائی کس طرح حاصل کی جا سکتی ہے، جبکہ تیسرا سوال یہ ہے کہ اگر ضرورت پڑے تو اسے کس طرح اپنے کنٹرول میں لیا جا سکتا ہے۔
امریکی سینیٹر مارکو روبیو نے میڈیا کو دی گئی بریفنگ کے دوران ان امور پر گفتگو کی۔
بریفنگ کے دوران ان سے یہ سوال بھی کیا گیا کہ کیا ایران کا افزودہ یورینیم محفوظ ہے۔ اس پر روبیو نے جواب دیا کہ اگر ضرورت پڑی تو کچھ لوگ وہاں جا کر اسے حاصل کر سکتے ہیں۔ تاہم انہوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔