ایران میں اسکول حملے کا الزام ٹرمپ نے اُلٹا ایرانی حکومت پر لگا دیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 28 فروری کو ایران کے شہر میناب میں لڑکیوں کے اسکول پر ہونے والی بمباری کا الزام ایران پر عائد کر دیا ہے، تاہم امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس واقعے کی تحقیقات تاحال جاری ہیں جبکہ کچھ نامعلوم امریکی ذرائع کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر اس حملے میں امریکی افواج بھی ملوث ہو سکتی ہیں۔
ایرانی حکام کے مطابق 28 فروری کو ہونے والی اس بمباری میں 175 افراد ہلاک ہوئے تھے اور شجرہ طیبہ پرائمری گرلز اسکول مکمل طور پر تباہ ہو گیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 7 مارچ کو اپنے صدارتی طیارے ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اس حملے کا الزام ایران پر عائد کیا۔ اس سے کچھ دیر قبل وہ ڈوور ایئر فورس بیس میں ایک تقریب میں شرکت کر کے واپس آ رہے تھے، جہاں مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کے پہلے ہفتے کے دوران ایرانی ڈرون حملے میں ہلاک ہونے والے چھ امریکی فوجیوں کی میتیں وصول کی گئیں۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ میری رائے میں اور جو کچھ میں نے دیکھا ہے اس کی بنیاد پر یہ حملہ ایران نے کیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے ہتھیاروں کی نشانہ بازی انتہائی ناقص ہے۔
ٹرمپ نے ایران سے متعلق کہا کہ ان کے پاس بالکل بھی درستگی نہیں ہے۔ یہ ایران نے ہی کیا تھا۔
دوسری جانب امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے بھی کہا کہ صرف ایران ہی ایسا فریق ہے جو شہریوں کو نشانہ بناتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بمباری کے حوالے سے تحقیقات جاری ہیں۔
ادھر ایرانی حکام نے اس مہلک حملے کا الزام امریکا اور اسرائیل دونوں پر عائد کیا ہے۔
خیال رہے اس سے قبل امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے شہر میناب میں ایک پرائمری اسکول پر ہونے والا حملہ ممکنہ طور پر امریکی فوج کی کارروائی کا نتیجہ تھا۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ مختلف شواہد اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اسکول کی عمارت کو ایک درست نشانے والے فضائی حملے میں شدید نقصان پہنچا تھا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا تھا کہ اس نتیجے تک پہنچنے کے لیے نئی سیٹلائٹ تصاویر، سوشل میڈیا پر موجود مواد اور تصدیق شدہ ویڈیوز کا جائزہ لیا گیا تھا جس سے ظاہر ہوا کہ حملہ ایک درست ہدف والے ہتھیار کے ذریعے کیا گیا تھا جس نے اسکول کی عمارت کو بری طرح متاثر کیا تھا۔