امریکا اور اسرائیل کے خلاف ایران کے پاس کون سے ہتھیار ہیں؟
امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مشترکہ حملوں اور ایرانی سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای سمیت کئی اعلیٰ عہدیداروں کی ہلاکت کے بعد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی تیزی سے بڑھ گئی ہے۔ ایران نے فوری ردعمل دیتے ہوئے اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا ہے۔
عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ان کی جوابی کارروائیاں صرف اسرائیل تک محدود نہیں بلکہ ان ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے جہاں امریکا کی افواج تعینات ہیں، جن میں خلیجی ریاستیں بھی شامل ہیں۔
اس صورتحال نے خطے کے دارالحکومتوں اور عالمی منڈیوں میں ایک اہم سوال پیدا کر دیا ہے کہ آیا یہ حملے صرف محدود جوابی کارروائیوں تک رہیں گے یا یہ کشیدگی ایک طویل جنگ کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔
دفاعی ماہرین ایران کے میزائل ذخیرے کو مشرق وسطیٰ میں سب سے بڑا اور متنوع قرار دیتے ہیں۔
ایران کے پاس بیلسٹک میزائل، کروز میزائل اور مختلف اقسام کے ڈرون موجود ہیں، جن کے ذریعے وہ اپنی فضائیہ کی کمزوری کے باوجود دور دراز اہداف تک حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ایران کا کہنا ہے کہ اس کا میزائل پروگرام دفاعی حکمت عملی اور دشمن کو باز رکھنے کے لیے ضروری ہے، کیونکہ اس کی فضائیہ زیادہ تر پرانے طیاروں پر مشتمل ہے۔
تاہم مغربی ممالک کا مؤقف ہے کہ ایران کے میزائل خطے میں عدم استحکام کا باعث بن سکتے ہیں اور مستقبل میں جوہری ہتھیاروں کی ترسیل کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں، جس کی ایران تردید کرتا ہے۔
طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل
ایران کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل تقریباً دو ہزار سے ڈھائی ہزار کلومیٹر تک ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
اس فاصلے کے باعث اسرائیل اور خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈے ان میزائلوں کی زد میں آتے ہیں۔ تاہم دفاعی ماہرین کے مطابق یہ میزائل امریکا تک پہنچنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔
کم فاصلے تک مار کرنے والے میزائل
اس کے علاوہ ایران کے پاس کم فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل بھی موجود ہیں جن کی رینج تقریباً 150 سے 800 کلومیٹر تک ہے۔
یہ میزائل قریب کے فوجی اہداف کو نشانہ بنانے اور فوری علاقائی حملوں کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔ ان میزائلوں میں فتح سیریز، ذوالفقار، قیام ون اور شاہاب ون اور ٹو جیسے پرانے نظام شامل ہیں۔
ایران اس حکمت عملی کو پہلے بھی استعمال کر چکا ہے۔ جنوری 2020 میں ایران نے امریکی جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد عراق میں عین الاسد ایئربیس پر بیلسٹک میزائل داغے تھے۔ اس حملے میں امریکی فوجی تنصیبات کو نقصان پہنچا اور سو سے زائد امریکی فوجی دماغی چوٹوں کا شکار ہوئے تھے۔
درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائل
ایران کی عسکری طاقت کا ایک اور اہم حصہ ہیں۔ ان میزائلوں کی رینج تقریباً پندرہ سو سے دو ہزار کلومیٹر تک ہے اور ان میں شاہاب تھری، عماد، قدر ون، خرم شہر، سجیل، خیبر شکن اور حاج قاسم جیسے میزائل شامل ہیں۔ ان میزائلوں کی مدد سے ایران اسرائیل سمیت خطے میں موجود کئی امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
ان میں سجیل میزائل خاص طور پر قابل ذکر ہے کیونکہ یہ ٹھوس ایندھن سے چلتا ہے اور اسے نسبتاً کم وقت میں لانچ کیا جا سکتا ہے۔ یہ خصوصیت ایسے حالات میں اہم سمجھی جاتی ہے جب ایران کو فوری طور پر جواب دینے کی ضرورت ہو۔
کروز میزائل
کروز میزائل بھی ایران کی جنگی حکمت عملی کا اہم حصہ ہیں۔ یہ میزائل زمین کے قریب پرواز کرتے ہیں اور اکثر ریڈار سے بچ نکلنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔
ایران کے پاس سومار، یا علی، قدس، حویظہ، پاوہ اور رعد جیسے کروز میزائل موجود ہیں۔
سومار میزائل کی رینج تقریباً ڈھائی ہزار کلومیٹر بتائی جاتی ہے۔
ڈرونز
ڈرون بھی ایران کے لیے اہم ہتھیار بن چکے ہیں۔ اگرچہ ڈرون میزائلوں کے مقابلے میں سست رفتار ہوتے ہیں، لیکن انہیں بڑی تعداد میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ایران ممکنہ طور پر ڈرون کے مسلسل حملوں کے ذریعے فضائی دفاعی نظام کو تھکا دینے کی حکمت عملی اختیار کر سکتا ہے۔
ایران کے حفاظتی اقدامات
ایران نے اپنے میزائل پروگرام کو محفوظ بنانے کے لیے ملک بھر میں زیر زمین سرنگیں، خفیہ اڈے اور محفوظ لانچنگ سائٹس بھی قائم کی ہیں۔ اس نیٹ ورک کی وجہ سے کسی بھی حملے کے بعد ایران کی تمام میزائل صلاحیت کو فوری طور پر ختم کرنا مشکل سمجھا جاتا ہے۔
ایران کی عسکری حکمت عملی صرف زمینی اہداف تک محدود نہیں۔ خلیج فارس اور آبنائے ہرمز بھی اس کے لیے اہم اسٹریٹجک مقام رکھتے ہیں۔ دنیا کے تیل اور گیس کی بڑی مقدار اسی راستے سے گزرتی ہے، جس کے باعث یہاں کشیدگی عالمی منڈیوں پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔
بحری جہازوں کو تباہ کرنے کی صلاحیت
ایران بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کے لیے اینٹی شپ میزائل، بحری بارودی سرنگیں، ڈرون اور تیز رفتار جنگی کشتیاں استعمال کر سکتا ہے۔ ایران نے فتاہ نامی ہائپرسونک میزائل نظام کا بھی اعلان کیا ہے، اگرچہ اس کی عملی صلاحیت کے بارے میں آزاد ذرائع سے محدود معلومات دستیاب ہیں۔
ایران کی پاسداران انقلاب نے حال ہی میں دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب امریکا اور برطانیہ سے منسلک تین آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اسی دوران عالمی شپنگ کمپنیوں نے بھی اس راستے سے جہازوں کی آمدورفت پر نظر ثانی شروع کر دی ہے۔
امریکا نے اس صورتحال کے پیش نظر خطے میں اپنی بحری اور فضائی طاقت میں اضافہ کر دیا ہے، جس سے دفاعی صلاحیت تو بڑھ سکتی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی ممکنہ اہداف کی تعداد بھی زیادہ ہو گئی ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی صرف براہ راست حملوں تک محدود نہیں رہ سکتی۔ ایران سے منسلک گروہ جیسے لبنان میں حزب اللّٰہ اور یمن میں حوثی بھی اس تنازع میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔ دونوں گروہوں نے آیت اللّٰہ خامنہ ای کی ہلاکت کی مذمت کرتے ہوئے ایران کے ساتھ کھڑے ہونے کا اعلان کیا ہے۔