ایران نے مجتبیٰ خامنہ ای کو سپریم لیڈر منتخب کر کے بڑی غلطی کی: صدر ٹرمپ

اس سے قبل ایک بیان میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران میں نئے سپریم لیڈر کے انتخاب میں امریکا کا کردار شامل ہوگا
اپ ڈیٹ 10 مارچ 2026 12:52am

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران نے آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو نیا سپریم لیڈر مقرر کر کے بڑی غلطی کی ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے این بی سی نیوز کو پیر کے روز دیے گئے ایک ٹیلیفونک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے تہران کے اس فیصلے پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 56 سالہ مجتبیٰ خامنہ ای کو قیادت سونپنا درست فیصلہ نہیں۔

مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا نیا سپریم لیڈر اس وقت بنایا گیا جب ان کے والد اور سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای جنگ کے آغاز میں امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملے میں شہید ہو گئے تھے۔

اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے انتخاب پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے سپریم لیڈر بننے پر خوش نہیں ہیں۔

امریکی میڈیا کے مطابق فاکس نیوز کے اینکر برائن کلیڈ نے بتایا کہ ایران کے نئے رہبرِ اعلیٰ کے اعلان کے بعد جب اس حوالے سے صدر ٹرمپ سے سوال کیا گیا تو انہوں نے مختصر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وہ مجتبیٰ خامنہ ای کے سپریم لیڈر بننے پر خوش نہیں۔

اُدھر اسرائیل کی جانب سے بھی ایران کی نئی قیادت کے حوالے سے سخت مؤقف سامنے آیا ہے۔ اسرائیلی حکام نے خبردار کیا ہے کہ ایران میں جو بھی نیا رہنما منتخب ہوگا اسے نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔

دوسری جانب صدر ٹرمپ نے ایران کے شہر اصفہان کے قریب واقع زیرِ زمین جوہری افزودگی کی تنصیب کے خلاف فوری امریکی فوجی کارروائی کے امکان کو بھی مسترد کر دیا۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم نے اس حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا، ہم اس کے قریب بھی نہیں ہیں۔

Read Comments