سندھ میں تمام تعلیمی ادارے 31 مارچ تک بند کرنے کا فیصلہ

وزیر اعلیٰ سندھ کی زیر صدارت اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ اور صوبائی وزرا نے تین ماه تک تنخواہیں نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔
شائع 10 مارچ 2026 04:13pm

سندھ میں تمام تعلیمی ادارے 16 سے 31 مارچ تک بند کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے، سندھ کابینہ کے اجلاس میں بروقت امتحانات اور آن لائن کلاسز جاری رکھنے کی ہدایات کردی گئی جب کہ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور صوبائی وزرا نے تین ماه تک تنخواہیں نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔


مشرق وسطیٰ میں جنگی صورت حال کے بعد ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو دیکھتے ہوئے اب پنجاب کے بعد سندھ میں بھی تعلیمی ادارے بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

منگل کو سندھ کابینہ کے اجلاس کے بعد جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق سندھ بھر کے تعلیمی اداروں کو عارضی طور پر بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور یہ فیصلہ 16 مارچ سے 31 مارچ تک نافذ العمل ہوگا۔

سندھ کابینہ کے مطابق تعلیمی ادارے بند ہونے کے باوجود طلبہ کے امتحانات اپنے مقررہ وقت پر ہی لیے جائیں گے اور امتحانی شیڈول میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔

اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ تعلیمی سرگرمیوں کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے سندھ بھر میں ضروری آن لائن کلاسز بھی جاری رکھی جائیں گی۔

سندھ حکومت نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ تعلیمی اداروں کی بندش کے دوران آن لائن تدریسی نظام کو مؤثر بنانے کے لیے انتظامات کو یقینی بنایا جائے۔

سندھ کابینہ اراکین کا 3 ماہ کی تنخواہیں نہ لینے کا فیصلہ

دوسری جانب کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر سندھ شرجیل انعام میمن نے بتایا کہ سندھ حکومت نے 16 مارچ سے 31 مارچ تک تعلیمی ادارے بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے تاہم اسکولز بند ہونے کے باوجود امتحانات وقت پر ہوں گے جب کہ کالج اور یونیورسٹیوں میں آن لائن کلاسز ہوں گی۔

شرجیل میمن نے بتایا کہ سرکاری گاڑیوں کے ایندھن میں 50 فیصد کمی کردی گئی ہے، نئی گاڑیوں اور فرنیچر خریداری پر پابندی عائد کردی گئی ہے، 60 فیصد سرکاری گاڑیوں کو 2 ماہ کے لیے بند کیا جارہا ہے، سرکاری گاڑیوں کے ایندھن میں 2 ماہ کے لیے 50 فیصد کمی کردی گئی ہے۔

وزیر اطلاعات سندھ نے کہا کہ ہمارا بیانہ ریاست کے ساتھ ہے، سوچ حکومت کے ساتھ ہے، جمعہ کو سرکاری دفاتر میں تعطیل نہیں ہوگی بلکہ ورک فرام ہوم ہوگا، سرکاری دفاتر میں ریفریشمنٹ پر 2 ماہ کے لیے پابندی عائد ہوگی، غیر ضروری پروٹوکول سے اجتناب کیا جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سندھ کابینہ اراکین نے 3 ماہ کی تنخواہیں نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے، ایم پی اے کی تنخواہ کے حوالے سے فیصلہ سندھ حکومت کرے گی، کوئی بھی سرکاری تقریب کسی ہوٹل میں نہیں ہوگی، سرکاری عمارت میں ہی ہوگی، سندھ حکومت نے وزیراعظم کے تمام فیصلوں کی توثیق کی۔

شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے وفاقی حکومت اور سیکیورٹی فورسز کے ساتھ ہیں، پاکستان اور ریاست کا بیانیہ ہم سب کا بیانیہ ہے، سب کو مل کر چیلنجز کا مقابلہ کرنا چاہیے، درپیش چیلنجز میں سب مل کرکفایت شعاری کریں، کفایت شعاری کرنا چاہتے ہیں لیکن معیشت کے ساتھ کھلواڑ نہیں کرنا چاہتے، عید کے دنوں میں دکانوں کے اوقات یہی رہیں گے۔

سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ کفایت شعاری مہم کے دوران وزیر اعلیٰ سندھ کا جہاز گراؤنڈ رہے گا وہ استعمال نہیں ہوگا، وفاقی حکومت نے پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ خوشی سے نہیں کیا، کفایت شعاری سے بچنے والے پیسے عوام کی فلاح پر استعمال ہوں گے، سرکاری سطح پر افطار عشائیہ پر پابندی عائد کی گئی ہے، کابینہ نے فیصلہ کیا ہے افطار عشائیہ میں کوئی وزیر شرکت نہیں کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے ایندھن بچت کی جامع مہم شروع کی، ایندھن بچت مہم سے 950 ملین روپےکی بچت ہوگی، اپریل تا جون سندھ کے وزرا، مشیر، معاونین خصوصی مراعات و تنخواہ نہیں لیں گے، غیر ضروری اخراجات کو کم کرکے 12 ارب روپے کی بچت ہوگی، نئی گاڑیوں اور فرنیچر کی خریداری پر پابندی عائد ہوگئی، وزرا اور افسران کے ضروری سرکاری دوروں میں بزنس کلاس پر پابندی عائد ہوگئی۔

شرجیل میمن کا مزید کہنا تھا کہ جن لوگوں کو غیر ضروری پولیس موبائل ملی ہوئی ہیں واپس لی جائیں گی، حکومت کی ترجیح ہے ایندھن کی بچت کو یقینی بنایا جائے، کل ٹرانسپورٹرز کے ساتھ اس متعلق میٹنگ کی جائے گی، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافےکا عوام پر برا اثر پڑا ہے، جن ٹرانسپورٹرز نے ازخود کرائے بڑھائے ہیں، ان کے خلاف کارروائی کر کے بعض کو گرفتار کیا گیا ہے۔

Read Comments