سوشل میڈیا کی ویڈیوز اور تصاویر سے اہداف کی نشاندہی؛ اسرائیل کا نیا خفیہ یونٹ کیسے کام کر رہا ہے؟

اس یونٹ میں انٹیلی جنس ماہرین اور جدید ٹیکنالوجی کو یکجا کیا گیا ہے تاکہ روزانہ لاکھوں ڈیٹا پوائنٹس کا تجزیہ کیا جا سکے۔
شائع 11 مارچ 2026 08:16pm

ایران کے ساتھ جاری جنگ کے دوران اسرائیلی فوج نے انٹیلی جنس کے میدان میں ایک نئی حکمت عملی اپناتے ہوئے ایک خصوصی یونٹ قائم کیا ہے جو عوامی معلومات اور سوشل میڈیا ڈیٹا کو استعمال کر کے معلومات حاصل کرتا ہے۔ اسرائیلی فوج کے انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ ’امان‘ نے اس نئے شعبے کو ’اوپن سورس انٹیلی جنس‘ کا نام دیا ہے۔

اسرائیلی میڈیا نے اس یونٹ کا انکشاف منگل کے روز پہلی بار کیا۔ اسرائیلی فوج کے مطابق اس یونٹ کا مقصد سوشل میڈیا، روایتی میڈیا اور ٹیلی گرام جیسے پیغام رسانی کے پلیٹ فارمز پر بڑی مقدار میں موجود عوامی معلومات کو جمع کرنا اور ان کا تجزیہ کرنا ہے۔

اس شعبے کی نگرانی ’امان‘ کے سربراہ میجر جنرل شلومی بِنڈر کر رہے ہیں اور اسے اسرائیلی فوج کی انٹیلی جنس صلاحیتوں کا ایک اہم حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔

اسرائیلی فوجی حکام کے مطابق اس یونٹ کے ذریعے اسرائیل کو ایران کے اندر ہونے والی پیش رفت پر براہ راست نظر رکھنے میں مدد مل رہی ہے۔ خاص طور پر ایرانی شہریوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی ویڈیوز اور تصاویر کو دیکھ کر فوج کو یہ اندازہ لگانے میں آسانی ہوتی ہے کہ ملک میں فوجی نقل و حرکت کہاں ہو رہی ہے یا کسی حملے کے بعد کی صورتحال کیا ہے۔

اس یونٹ میں انٹیلی جنس ماہرین اور جدید ٹیکنالوجی کو یکجا کیا گیا ہے تاکہ روزانہ لاکھوں ڈیٹا پوائنٹس کا تجزیہ کیا جا سکے۔

اسرائیلی حکام کے مطابق ایران میں حالیہ احتجاجی مظاہروں کے بعد اس یونٹ نے اپنی توجہ زیادہ تر ایرانی صورتحال پر مرکوز کر دی ہے۔

ان کے مطابق عوامی ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات روایتی خفیہ ذرائع جیسے سیٹلائٹ تصاویر یا انسانی ذرائع سے ملنے والی معلومات کی تکمیل کا کام کرتی ہیں۔

ایک اسرائیلی انٹیلی جنس اہلکار نے بتایا کہ سوشل میڈیا سے حاصل ہونے والی معلومات کو دیگر خفیہ ذرائع سے ملایا جاتا ہے تاکہ حقیقی صورتحال کو فوری طور پر سمجھا جا سکے۔

ان کے مطابق بعض مواقع پر ایرانی شہریوں کی جانب سے موبائل فون سے بنائی گئی ویڈیوز کی مدد سے میزائل لانچرز کی نقل و حرکت یا فضائی حملوں کے نتائج کی تصدیق ممکن ہو جاتی ہے۔

اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ جدید دور میں اہم معلومات اکثر کھلے عام موجود ہوتی ہیں لیکن ان کا درست تجزیہ کرنا ضروری ہوتا ہے۔

ایران میں جب فوجی تنصیبات یا قافلوں کی نقل و حرکت ہوتی ہے تو عام شہری اس کی ویڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کر دیتے ہیں۔ ان ویڈیوز میں موجود بصری نشانات اور ڈیجیٹل معلومات کا تجزیہ کر کے فوجی ماہرین کسی مقام کی درست نشاندہی اور وقت کا تعین کر سکتے ہیں۔

اسرائیلی انٹیلی جنس میں اس صلاحیت کو خاص طور پر مفید قرار دیا جا رہا ہے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق اس کے ذریعے انہیں ایرانی فوجی سرگرمیوں کو سمجھنے اور اپنی کارروائیوں کی منصوبہ بندی میں مدد ملی ہے۔

اس کے علاوہ یہ یونٹ اسرائیل کے ابتدائی وارننگ سسٹم کو مضبوط بنانے کے لیے بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔

سوشل میڈیا پر موجود رجحانات اور معلومات کا جائزہ لے کر فوج کو ممکنہ حملوں یا حکومتی پالیسی میں تبدیلی کے اشارے پہلے ہی مل سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق جدید جنگوں میں معلومات کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے اور سوشل میڈیا اس کا ایک بڑا ذریعہ بن چکا ہے۔ اسی وجہ سے اسرائیلی فوج کا یہ نیا اوسِنٹ شعبہ مستقبل میں مزید وسعت اختیار کر سکتا ہے اور قومی سلامتی کے نظام کا مستقل حصہ بن سکتا ہے۔

Read Comments