کراچی میں شیطان کے مجسمے کا معمہ حل، پولیس نے حقیقت بتا دی
کراچی میں شیطان کے ایک مجسمے کی موجودگی کا معمہ حل ہو گیا ہے۔ پولیس نے مجسمہ ساز کا پتا لگا لیا ہے۔
سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہی تھی، جس میں ایک دکان کے باہر ’بعل‘ نامی ایک شیطان کا مجسمہ رکھا دکھایا گیا تھا۔
ویڈیو سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے پولیس سے تحقیقات کا مطالبہ کیا، جس پر پولیس نے ایکشن لیتے ہوئے مجسمہ اپنے قبضے میں لے لیا۔
اب پولیس تحقیقات کے بعد اس مجسمے کے حوالے سے تفصیلات سامنے لے آئی ہے۔
پولیس حکام کے مطابق یہ مجسمہ تھرمو پول سے تیار کیا گیا تھا اور اسے ایک مقامی مجسمہ ساز نے بنایا تھا۔
حکام کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر اس مجسمے کی ویڈیوز سامنے آنے کے بعد معاملے کی تحقیقات شروع کی گئیں تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ یہ مجسمہ کس مقصد کے لیے بنایا گیا تھا اور اسے وہاں کیوں رکھا گیا۔
تحقیقات کے دوران پولیس نے بتایا کہ مجسمہ ساز عمران نامی شخص نے وضاحتی بیان ریکارڈ کرایا ہے۔ اس کے مطابق اسے یہ مجسمہ بنانے کا کام علامہ شبر زیدی نامی شخص کی طرف سے دیا گیا تھا۔
پولیس کے مطابق علامہ شبر زیدی نے بیان میں کہا ہے کہ یہ مجسمہ یوم القدس کے موقع پر ایک علامتی احتجاج کے لیے تیار کروایا گیا تھا۔
پولیس حکام کے مطابق علامہ شبر زیدی نے بتایا کہ ان کا منصوبہ تھا کہ جمعہ کے روز یوم القدس کے پروگرام کے دوران اس مجسمے کو نذر آتش کیا جائے تاکہ اسے ایک علامتی پیغام کے طور پر پیش کیا جا سکے۔
تاہم مجسمے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر پہلے ہی وائرل ہو گئی جس کے بعد معاملہ عوامی توجہ کا مرکز بن گیا۔