عراق میں آئل ٹینکروں پر حملوں کے بعد خام تیل کی قیمت 9 فی صد بڑھ گئی
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق عراق میں آئل ٹینکروں پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تیزی آگئی ہے۔ حملوں میں میں کم از کم ایک عملے کا رکن ہلاک ہوا، جب کہ خلیج میں چار دیگر جہاز بھی پروجیکٹائل حملوں کا نشانہ بنے۔
رپورٹس کے مطابق عراقی سمندری حدود کے قریب دو بین الاقوامی آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا گیا جس کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی فراہمی متاثر ہونے کے خدشات بڑھ گئے۔
حکام کے مطابق الفا بندرگاہ کے نزدیک ہونے والے حملے کے بعد 25 عملے کے افراد کو فوری طور پر محفوظ نکال لیا گیا ہے تاہم کم از کم ایک ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔ بحری حکام اور امدادی ٹیمیں آگ پر قابو پانے کی کوششیں کر رہی ہیں تاکہ مزید نقصان اور ممکنہ ماحولیاتی بحران سے بچا جا سکے۔
برطانوی خام تیل کی قیمت میں 9 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد برطانوی خام تیل کی قیمت 100.50 ڈالر فی ہوگئی۔ امریکی خام تیل کی قیمت بھی 8.57 فیصد اضافے کے بعد 94.73 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں کمی نہ آئی تو عالمی خام تیل کی قیمتیں 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہیں۔ اس صورتحال سے عالمی مارکیٹ اور توانائی کی عالمی معیشت پر بھی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔
ادھر ایران نے امریکا کو مخاطب کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ تیل کو 200 ڈالر فی بیرل تک جانے کے لیے تیار رہیں، کیونکہ تیل کی قیمت خطے کے امن سے جڑی ہے جسے آپ نے غیر مستحکم کیا ہے۔
یاد رہے کہ ایران جنگ کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد عالمی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) نے 400 ملین بیرل تیل جاری کرنے کا اعلان کیا تاہم اس اعلان کے باوجود خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ آبنائے ہرمز دنیا میں تیل کی ترسیل کا ایک انتہائی اہم راستہ ہے جہاں سے عالمی تیل کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا ہے۔