عراق میں ڈرون حملے سے فرانس کا ایک فوجی اہلکار ہلاک، متعدد زخمی

فرانسیسی صدر نے ایک فرانسیسی فوجی مارے جانے کی تصدیق کردی
شائع 13 مارچ 2026 01:07pm

عراق کے شمالی شہر اربیل کے قریب ڈرون حملے میں ایک فرانسیسی فوجی ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوگئے ہیں، جس پر فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے سخت ردعمل دیتے ہوئے حملے کی مذمت کی ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق فرانسیسی فوجی حکام نے بتایا کہ جمعرات کو اربیل کے علاقے میں ڈرون حملے کے نتیجے میں دہشت گردی کے خلاف تربیت فراہم کرنے والے چھ فرانسیسی فوجی زخمی ہوگئے، جبکہ ایک اعلیٰ افسر چیف وارنٹ آفیسر ارناؤڈ فریون ہلاک ہوگیا۔ حملہ ایسے وقت میں کیا گیا جب چند گھنٹے قبل ہی اسی علاقے میں ایک اطالوی فوجی اڈے کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا۔

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ چیف وارنٹ آفیسر ارناؤڈ فریون فرانس کے لیے جان قربان کر گئے، جبکہ حملے میں کئی دیگر فوجی زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2015 سے داعش کے خلاف جاری کارروائیوں میں مصروف فرانسیسی افواج پر یہ حملہ ناقابل قبول ہے۔

میکرون نے مزید کہا کہ عراق میں فرانسیسی فوج کی موجودگی صرف دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دائرہ کار میں ہے اور ایران میں جاری جنگ ایسے حملوں کا جواز فراہم نہیں کرسکتی۔

تاحال یہ واضح نہیں ہوسکا کہ ڈرون کہاں سے داغا گیا تھا۔ تاہم عراقی سیکیورٹی ذرائع اور مسلح گروہوں کے قریبی ذرائع کے مطابق گزشتہ تین سے چار روز کے دوران عراقی شیعہ ملیشیاؤں نے عراق میں امریکی مفادات کو نشانہ بناتے ہوئے ڈرون اور میزائل حملوں میں تیزی لائی ہے۔

اربیل کے گورنر امید خوشناؤ نے اپنے بیان میں بتایا کہ ڈرون حملہ مخمور کے علاقے میں کیا گیا۔

دوسری جانب اطالوی وزارت دفاع نے بھی جمعرات کو بتایا تھا کہ عراقی کردستان میں ایک اطالوی فوجی اڈے پر رات کے وقت کیا جانے والا فضائی حملہ جان بوجھ کر کیا گیا تھا، جہاں نیٹو اہلکار تعینات ہیں۔

۔

دریں اثنا فرانس مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر اپنے اتحادیوں کے دفاع کے لیے بحیرۂ روم، بحیرۂ احمر اور ممکنہ طور پر آبنائے ہرمز میں ایک درجن کے قریب بحری جہاز تعینات کر رہا ہے، جن میں اس کا طیارہ بردار بحری بیڑہ بھی شامل ہے۔

ادھر ایران، اسرائیل اور امریکا کی قیادت نے بھی سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے جنگ جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے، جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ دو ہفتوں کے قریب پہنچ چکی ہے جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد ہلاک، لاکھوں متاثر اور عالمی مالیاتی منڈیاں بھی شدید دباؤ کا شکار ہوچکی ہیں۔

Read Comments