ایران پہلے حملے روکے، تب ہی ثالثی ممکن ہے: یو اے ای

خطے میں کشیدگی کا حل بالآخر سفارتکاری اور مذاکرات میں ہے، اماراتی وزیر مملکت برائے خارجہ امور لانا نسیبہ
شائع 13 مارچ 2026 09:06pm

یو اے ای کا کہنا ہے کہ ایران کو ثالثی کی اجازت دینے کے لیے پڑوسیوں پر حملے روکنا ہوں گے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق متحدہ عرب امارات کی وزیر مملکت برائے خارجہ امور لانا نسیبہ نے غیرملکی خبر رساں ادارے کو ایک انٹرویو میں کہا کہ خطے میں جاری کشیدگی کا حل بالآخر سفارتکاری اور مذاکرات کے ذریعے نکلے گا، تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ ایران پہلے اپنے پڑوسی ممالک پر حملے بند کرے۔

انہوں نے کہا کہ ثالثی اسی وقت ممکن ہوسکتی ہے جب لڑائی رک جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب حملے جاری ہوں تو ایسے میں ثالثی کی بات کرنا مشکل ہوتا ہے۔

لانا نسیبہ نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ اپنے دور میں ایران کے ساتھ جاری جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی حل کی راہ ہموار کریں گے۔

ان کے مطابق دو ہفتے قبل وہ سفارتی حل تلاش کرنے کے مقصد سے ایران کے دورے پر گئی تھیں تاہم ایرانی حکام نے اس بات کا کوئی اشارہ نہیں دیا تھا کہ متحدہ عرب امارات کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے، اسی لیے ایران کے حملے یو اے ای کے لیے حیران کن تھے۔

یو اے ای وزارت دفاع کے مطابق ایران کی جانب سے اب تک مجموعی طور پر 16 میزائل داغے گئے جن میں سے ایک سمندر میں گرا۔ دفاعی نظام نے 121 ڈرونز کا سراغ لگایا جن میں سے 119 کو مار گرایا گیا جبکہ دو ڈرونز کے حدود میں گرنے کی تصدیق کی گئی ہے۔

وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ ایرانی حملوں کے آغاز سے اب تک 221 بیلسٹک میزائلوں کا سراغ لگایا گیا جن میں سے 205 کو تباہ کردیا گیا جبکہ مجموعی طور پر صرف دو بیلسٹک میزائل یو اے ای کی سرزمین پر گرے ہیں۔

ایران کا مؤقف ہے کہ اس کے حملوں کا ہدف خطے میں موجود امریکی فوجی تنصیبات ہیں۔ خطے کے کئی ممالک بشمول عراق، اردن اورترکی میں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں۔

لانا نسیبہ کے مطابق ایران کے حملوں کے باوجود یو اے ای کی معیشت مستحکم ہے اور ملک میں معمولات زندگی برقرار ہیں جبکہ ایئرپورٹس اور پروازیں معمول کے مطابق جاری ہیں۔

Read Comments