’امریکا میں رہائش اور لاکھوں ڈالرز‘: ٹرمپ انتظامیہ کی ایرانی قیادت کی اطلاع دینے پر شہریوں کو لالچ

'امریکا میں رہائش اور لاکھوں ڈالرز': ٹرمپ انتظامیہ کی ایرانی قیادت کی اطلاع دینے پر شہریوں کو لالچ
شائع 14 مارچ 2026 03:06pm

امریکا نے ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ‌ای اور اعلیٰ حکام کے بارے میں معلومات دینے پر اربوں روپے کے انعام اور امریکا میں رہائش کا لالچ دینا شروع کردیا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ نے اپنے ’ریوارڈ فار جسٹس‘ پروگرام کے تحت ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای اور دیگر 9 اعلیٰ ایرانی عہدیداروں کے بارے میں معلومات فراہم کرنے پر 10 ملین ڈالر (تقریباً 3 ارب روپے) کے انعام کا اعلان کیا ہے۔

ریوارڈ فار جسٹس امریکی محکمہ خارجہ کا دہشت گردی کے خلاف قومی سلامتی کا پروگرام ہے۔ جس کا مقصد امریکی شہریوں یا املاک کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیوں یا امریکی قومی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھے جانے والے افراد کے بارے میں معلومات حاصل کرنا ہے۔

اس فہرست میں مجتبیٰ خامنہ ای کے علاوہ انکے دفتر کے چیف آف اسٹاف علی اصغر حجازی، سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی، وزیر داخلہ اسکندر مومنی اور انٹیلی جنس وزیر اسماعیل خطیب سمیت پاسداران انقلاب کے سینئر کمانڈرز بھی شامل ہیں۔

ریوارڈ فار جسٹس کے مطابق یہ افراد ایران کے پاسدارانِ انقلاب اور اس کی ذیلی تنظیموں سے وابستہ ہیں، امریکا نے انہیں دنیا بھر میں دہشت گردی کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق یہ گروہ اب ایران کی معیشت کے وسیع حصوں پر کنٹرول رکھتا ہے اور ملکی سیاست میں بھی اس کا اثر و رسوخ ہے۔

امریکا نے ایرانی عوام پر زور دیا ہے کہ وہ ان افراد سے متعلق معلومات ’ٹور‘ (ویب براؤزر) پر مبنی ٹِپ لائن یا ’سگنل‘ (موبائل ایپ) کے ذریعے فراہم کرسکتے ہیں اور اس انعام کے حق دار بن سکتے ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے ’ٹور‘ اور ’سگنل‘ کے استعمال پر زور دینے کا مقصد انتہائی خفیہ اور محفوظ رابطہ کاری کو یقینی بنانا ہے تاکہ معلومات فراہم کرنے والے ایرانی شہریوں کی شناخت ایرانی حکومت اور انٹیلی جینس سے پوشیدہ رہے۔

یاد رہے کہ امریکی محکمۂ خارجہ نے 2019 میں پاسدارانِ انقلاب کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا۔

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگزیتھ نے جمعہ کو ایران کے نئے سپریم لیڈر کی صحت کے حوالے سے رپورٹس پر کہا کہ امریکی حملوں کے نتیجے میں مجتبیٰ خامنہ‌ ای زخمی اور ممکنہ طور پر معذور ہوچکے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکی اور اسرائیلی حملوں نے مشرق وسطیٰ میں جاری تصادم کے دوران 15 ہزار سے زائد ایرانی اہداف کو نشانہ بنایا اور بہت جلد تمام ایرانی دفاعی کمپنیاں تباہ ہو جائیں گی۔

ہیگسیٹھ نے پینٹاگون بریفنگ کے دوران دعویٰ کیا کہ ایران کے پاس کوئی فضائی دفاع، کوئی فضائیہ یا کوئی بحریہ باقی نہیں رہی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو دھمکی دیتے ہویے کہا ہے کہ اگر اس نے آبنائے ہرمز میں جہازوں پر حملے بند نہ کیے تو ایران کے خارگ جزیرے پر واقع آئل ٹرمینل کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

اس کے ردعمل میں ایران کا کہنا ہے کہ اس کی توانائی تنصیبات پر حملہ ہوا تو وہ خطے میں امریکی اتحادی کمپنیوں کی تنصیبات پر حملے کرے گا۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر ڈیوڈ ساکس نے ایران کے ساتھ جاری تنازع سے نکلنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کو اس جنگ میں واپسی کا راستہ تلاش کرنا چاہیے۔

ڈیوڈ ساکس نے ایک پوڈکاسٹ میں اس معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایران کے توانائی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا تو ایران خلیجی ریاستوں میں موجود تیل اور گیس کی تنصیبات کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے جس سے صورت حال مزید سنگین ہوسکتی ہے۔

Read Comments