میزائلوں کی نئی لہر، ایران کی خلیجی بندرگاہوں کے قریبی رہائشیوں کو انخلا کی وارننگ

رپورٹ کے مطابق دبئی کی جبل علی بندرگاہ، ابوظہبی کی خلیفہ بندرگاہ اور فجیرہ بندرگاہ کے اردگرد کے علاقوں کو خالی کرنے کا کہا گیا ہے۔
اپ ڈیٹ 14 مارچ 2026 09:59pm

مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے دوران ایران نے ایک بار پھر میزائلوں کی نئی لہر فائر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق ایرانی افواج نے تازہ میزائل حملوں کا آغاز کر دیا ہے، تاہم ان حملوں کی تفصیلات فوری طور پر جاری نہیں کی گئیں۔

ایرانی وزارت دفاع کے ترجمان نے کہا ہے کہ ایران اب جدید اور زیادہ طاقتور ہتھیاروں کے استعمال میں اضافہ کرے گا۔ بیان کے مطابق بالخصوص بیلسٹک میزائلوں اور زیادہ تباہ کن صلاحیت رکھنے والے دیگر میزائلوں کا استعمال بڑھایا جائے گا۔

ایران اس دوران اسرائیل اور خلیج کے بعض پڑوسی ممالک کی طرف میزائل اور ڈرون حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔ اسی کے ساتھ ایران نے آبنائے ہرمز کو مؤثر طور پر بند کر دیا ہے۔ یہ وہ اہم سمندری راستہ ہے جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ تیل کی عالمی تجارت گزرتی ہے۔

دوسری جانب امریکا اور اسرائیل کے جنگی طیارے ایران کے اندر مختلف فوجی اور دیگر اہداف پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس صورتحال نے پورے خطے میں سکیورٹی خدشات کو بڑھا دیا ہے اور کئی ممالک ہائی الرٹ پر چلے گئے ہیں۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی ’تسنیم‘ نے متحدہ عرب امارات میں رہنے والے لوگوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ فوری طور پر اہم بندرگاہوں کے اطراف کے علاقوں کو خالی کر دیں۔

رپورٹ کے مطابق دبئی کی جبل علی بندرگاہ، ابوظہبی کی خلیفہ بندرگاہ اور فجیرہ بندرگاہ کے اردگرد کے علاقوں کو خالی کرنے کا کہا گیا ہے۔

ایجنسی کا کہنا ہے کہ ان مقامات کو ممکنہ اہداف قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ وہاں شہری تنصیبات کے درمیان امریکی فوجی موجودگی کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان علاقوں کو آنے والے گھنٹوں میں نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

ادھر اسرائیل میں بھی صورتحال کشیدہ ہے۔ خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کے مطابق مغربی یروشلم کے اوپر زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ یہ دھماکے اس وقت ہوئے جب اسرائیلی فوج نے اعلان کیا کہ ایران کی جانب سے میزائل فائر کیے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے تہران پر حملوں کے بعد شروع ہونے والی یہ جنگ اب تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کشیدگی میں کمی نہ آئی تو اس کے اثرات پورے خطے اور عالمی معیشت پر مزید گہرے ہو سکتے ہیں۔ خطے کے ممالک اور عالمی برادری صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔

اُدھر کویت میں ایک فوجی اڈے پر ڈرون حملے کے نتیجے میں کویتی فوج کے تین اہلکار زخمی ہو گئے۔ وزارتِ دفاع کے ترجمان کے مطابق دو ڈرونز نے احمد الجابر ایئر بیس کو نشانہ بنایا جس سے اڈے کے کچھ حصوں کو نقصان پہنچا جبکہ تین فوجیوں کو معمولی نوعیت کی چوٹیں آئیں۔

کویتی وزارتِ دفاع کے بیان کے مطابق ملک کے فضائی دفاعی نظام نے مزید تین ڈرونز کو فضا میں ہی مار گرایا۔ حکام کا کہنا ہے کہ دو ڈرون ایسے علاقوں میں گرے جو وزارت کے بقول’خطرے کے دائرے‘سے باہر تھے اور ان سے کسی قسم کا نقصان نہیں ہوا۔

Read Comments