صدر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے چین سے مدد طلب کر لی
امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے درمیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال رکھنے کے لیے چین سے مدد طلب کر لی ہے۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ دیگر اتحادی ممالک بھی اپنے جنگی جہاز خطے میں تعینات کریں گے، تاہم فرانس نے اس دعوے کی فوری تردید کر دی ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا ایران کے ساتھ کشیدگی کے دوران آبنائے ہرمز میں آزادانہ بحری آمدورفت یقینی بنانے کے لیے چین کی مدد لے گا۔ ان کے مطابق فرانس، جرمنی، جاپان، جنوبی کوریا، برطانیہ اور دیگر اتحادی ممالک بھی اپنے جنگی جہاز بھیجنے پر غور کر رہے ہیں تاکہ عالمی تجارتی جہاز محفوظ طریقے سے اس علاقے سے گزر سکیں۔
اُدھر فرانس نے امریکی صدر کے بیان کی تردید کی اور کہا کہ اس نے خطے میں بحری بیڑے بھیجنے کا کوئی اعلان نہیں کیا۔ فرانس کے حکام نے واضح کیا کہ یہ خبر درست نہیں اور وہ صرف اپنے سفارتی اور سیاسی کردار پر توجہ مرکوز رکھیں گے۔
دوسری جانب سوئٹرزلینڈ نے خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں امریکی فوجی پروازوں پر پابندی عائد کر دی ہے۔ سوئس حکام کے مطابق ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے براہِ راست متعلق امریکی طیاروں کو سوئٹزرلینڈ کی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خلیج فارس میں کشیدگی بڑھ رہی ہے اور عالمی تجارتی بحری راستے خطرے میں ہیں۔ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم بحری گزرگاہوں میں سے ایک ہے جہاں روزانہ بڑی مقدار میں تیل اور دیگر اشیاء کا تبادلہ ہوتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ کی یہ کوشش عالمی بحری راستوں کو کھلا رکھنے کے لیے ہے، لیکن اتحادی ممالک کی عدم شمولیت یا تردید سے امریکا کو عملی اقدامات میں مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔