ایران کے خلاف جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے: برطانوی وزیراعظم کا اعلان

روس کو مشرقِ وسطیٰ کی جنگ سے فائدے نہیں اٹھانے دیں گے: برطانوی وزیراعظم
اپ ڈیٹ 16 مارچ 2026 04:54pm

برطانیہ کے وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے ایران جنگ سے متعلق ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ برطانیہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے کوششیں جاری رکھے گا مگر اس جنگ کا براہِ راست حصہ نہیں بنے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کو مشرقِ وسطیٰ جنگ کا فائدہ اٹھانے نہیں دیں گے۔

برطانوی وزیر اعظم نے پیر کے روز مشرقِ وسطیٰ کی صورت حال پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ برطانیہ ایران سے لاحق خطرات کو روکنے اور صورت حال کے جلد حل کے لیے کوششیں جاری رکھے گا تاہم اس وسیع جنگ میں خود کو نہیں گھسیٹے گا۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دھمکی دے چکے ہیں کہ خطے میں اتحادی ملکوں کی فوجی مدد نہ ملنے پر نیٹو اتحاد خطرے میں پڑ سکتا ہے۔

برطانوی فوج کی تعیناتی سے متعلق کیئر اسٹارمر نے کہا ہے کہ کسی بھی وزیر اعظم کے لیے فوج کو بیرونِ ملک تعینات کرنے کا فیصلہ سب سے مشکل فیصلہ ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر وہ فوجیوں کو خطرناک صورت حال میں بھیجتے ہیں تو انہیں یقین ہونا چاہئے کہ یہ اقدام واضح قانونی بنیاد اور ایک مکمل طور پر سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کیا جا رہا ہے۔

کیئر اسٹارمر کا کہنا تھا کہ برطانوی مفادات کے تحفظ کے لیے دباؤ کے باوجود ثابت قدم رہنا ان کی قیادت کے اصولوں میں شامل ہے۔ انہیں یقین ہے کہ وقت ثابت کرے گا کہ ان کی حکومت نے درست حکمت عملی اختیار کی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ برطانیہ کی ترجیح اپنے شہریوں کی حفاظت اور اپنے اتحادیوں کے دفاع کے لیے ضروری اقدامات کرنا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اب تک 92 ہزار سے زائد برطانوی شہری کمرشل اور سرکاری چارٹر پروازوں کے ذریعے وطن واپس آ چکے ہیں۔ لبنان میں موجود برطانوی شہریوں کی مدد کے لیے بھی کام جاری ہے۔

کیئر اسٹارمر نے کہا کہ عالمی منڈیوں میں استحکام کو یقینی بنانے کے لیے آبنائے ہرمز کھلوانا ضروری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ آسان کام نہیں، دیگر ممالک کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز کے لیے ایک قابلِ عمل منصوبہ تیار کر رہے ہیں تاکہ جہاز رانی اور گزرگاہ کو دوبارہ کھولا جا سکے تاہم انہوں نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے کسی نیٹو مشن کا کوئی امکان نہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس کے لیے ایران کے ساتھ کسی معاہدے کی ضرورت بھی پیش آسکتی ہے۔

روس یوکرین جنگ کے حوالے سے اظہارِ خیال کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یوکرین کی حمایت جاری رکھنا انتہائی ضروری ہے، روس کو مشرقِ وسطیٰ کی جنگ سے فائدے اٹھانے نہیں دیا جائے گا۔

واضح رہے کہ برطانیہ امریکا کا اہم اتحادی ملک اور مشترکہ عسکری اتحاد (نیٹو) کا بھی حصہ ہے۔ برطانوی وزیراعظم کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اتحادی ملکوں سے آبنائے ہرمز کھلوانے میں مدد کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

صدر ٹرمپ اتحادی ملکوں کو مدد فراہم نہ کرنے کی صورت میں نیٹو کے مستقبل پر اثرات مرتب ہونے کی دھمکی بھی دے چکے ہیں تاہم برطانیہ، آسٹریلیا، فرانس اور جرمنی سمیت متعدد اتحادی ملک جنگ میں شامل ہون سے گریز کر رہے ہیں۔

Read Comments