’تم کس کے ساتھ ہو‘: ایران کے سیکیورٹی چیف مسلم دنیا سے مایوس

بعض ممالک نے ہماری حمایت نہیں کی، کچھ نے تو ایران کو اپنا مخالف قرار دے دیا: علی لاریجانی
شائع 16 مارچ 2026 08:22pm

ایران کے سیکیورٹی چیف علی لاریجانی نے مسلم ممالک کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ جنگی صورتحال میں ایران امریکا اور اسرائیل کے خلاف اپنی پوزیشن پر ثابت قدم ہے، تاہم انہیں مسلم دنیا کی جانب سے متوقع حمایت نہ ملنے پر مایوسی ہوئی ہے۔ انہوں نے مسلم ممالک سے سوال کیا کہ اس تنازع میں وہ کس فریق کے ساتھ کھڑے ہیں۔

علی لاریجانی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ جب ایران پر حملے کیے گئے تو بہت سے مسلم ممالک نے کھل کر ہماری کی حمایت نہیں کی۔

علی لاریجانی کے مطابق بعض ممالک تو اس سے بھی آگے بڑھے اور انہوں نے ایران کو اپنا مخالف قرار دے دیا، صرف اس وجہ سے کہ ایران نے ان ممالک کی سرزمین پر موجود امریکی فوجی اڈوں یا امریکی اور اسرائیلی مفادات کو نشانہ بنایا۔

ایران کا مؤقف ہے کہ وہ خطے میں صرف امریکی مفادات اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنا رہا ہے۔

تاہم مختلف رپورٹس میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ایرانی ڈرون اور میزائل حملوں کے نتیجے میں خلیجی خطے میں بعض شہری مقامات، ہوٹلوں اور توانائی کی تنصیبات کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

علی لاریجانی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ خاموشی سے بیٹھا رہے جبکہ اس کے ہمسایہ ممالک میں امریکا کے فوجی اڈے موجود ہوں اور وہاں سے ایران کے خلاف کارروائیاں کی جائیں۔

ان کے مطابق ایسی صورتحال میں ایران کے پاس جواب دینے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں رہتا۔

انہوں نے موجودہ صورتحال کو ایک بڑے تنازع کے طور پر بیان کرتے ہوئے کہا کہ آج کی کشمکش دراصل ایک طرف امریکا اور اسرائیل کے درمیان ہے جبکہ دوسری طرف ایران اور وہ قوتیں ہیں جنہیں ایران مزاحمتی محاذ قرار دیتا ہے۔

اسی تناظر میں انہوں نے مسلم ممالک سے سوال کیا کہ وہ اس معاملے میں کس کے ساتھ کھڑے ہیں۔

علی لاریجانی نے مسلم دنیا میں اتحاد کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران خطے میں کسی قسم کی بالادستی یا غلبہ حاصل کرنے کا خواہاں نہیں ہے بلکہ وہ صرف اپنے مفادات اور خودمختاری کے دفاع کے لیے کھڑا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مسلم ممالک کو یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ امریکا اپنے اتحادیوں کے ساتھ مستقل وفاداری نہیں رکھتا جبکہ اسرائیل کو وہ مسلم دنیا کے لیے ایک مشترکہ دشمن قرار دیتے ہیں۔

ان کے مطابق موجودہ حالات میں مسلم ممالک کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے مفادات اور خطے کے مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کریں۔

Read Comments