اگر کسی ملک نے ’خارگ‘ پر حملہ کیا تو اُس کی آئل تنصیبات نشانہ بنیں گی: ایران

ایرانی فوج جب کسی معاملے پر وارننگ دیتی ہے تو اس پر عمل بھی کرتی ہے: بریگیڈیئر جنرل ابوالفضل شکارچی
شائع 17 مارچ 2026 09:40am

ایران نے اپنے اہم تیل برآمدی مرکز ’خارگ‘ آئل ٹرمینل پر ممکنہ حملے کے حوالے سے سخت ردعمل دیا ہے۔ ایرانی مسلح افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ابوالفضل شکارچی نے خبردار کیا ہے کہ اگر خارگ جزیرے پر تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تو ایران اس کا فیصلہ کن جواب دے گا۔

بریگیڈیئر جنرل ابوالفضل شکارچی نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ جس ملک کی سرزمین سے حملہ کیا جائے گا، ایران اس ملک کی تیل اور گیس تنصیبات کو نشانہ بنائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایرانی فوج جب کسی معاملے پر وارننگ دیتی ہے تو اس پر عمل بھی کرتی ہے۔

بریگیڈیئر جنرل ابوالفضل شکارچی نے پڑوسی ممالک کو بھی پیغام دیا کہ اگر کسی ملک نے امریکا کو اپنی سرزمین خارگ جزیرے پر حملے کے لیے استعمال کرنے دی، تو اسے ایران کے ممکنہ ردعمل کے لیے تیار رہنا چاہیے، جس میں اس کے توانائی کے مراکز کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایک روز قبل ایران کے خارگ جزیرے پر حملے کا اشارہ دیا گیا تھا۔

خارگ جزیرہ ایران کے ساحل سے تقریباً 15 ناٹیکل میل دور واقع ہے اور اسے ملک کا سب سے بڑا تیل برآمدی مرکز سمجھا جاتا ہے۔ اس جزیرے کے ذریعے ایران کی تقریباً 90 فیصد خام تیل کی برآمدات ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے اس کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔

Read Comments