یورپ میں ایٹمی تباہی کے دور کی تیاری، فرانسیسی صدر کا بڑا اعلان

ایران کے ساتھ جاری تنازع کے حوالے سے فرانس کا مؤقف قدرے مختلف ہے۔
شائع 17 مارچ 2026 07:35pm

فرانس کے صدر ایمانویل میکرون نے ایران کے خلاف جاری جنگ کے تناظر میں ایک اہم اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا ایک نئے ایٹمی دور میں داخل ہو رہی ہے، جس کے لیے یورپ کو خود کو تیار کرنا ہوگا۔ انہوں نے دو مارچ کو اپنی تقریر میں فرانس کے ایٹمی ہتھیاروں کے نظام کو مضبوط بنانے اور یورپی ممالک کے ساتھ دفاعی تعاون بڑھانے کا عندیہ دیا۔

میکرون نے اپنی اس پالیسی کو ”فارورڈ ڈیٹرنس“ یعنی پیشگی دفاعی حکمت عملی کا نام دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یورپ کو اپنی سیکیورٹی کے لیے اب مکمل طور پر امریکا پر انحصار نہیں کرنا چاہیے بلکہ خود اپنے مستقبل کے فیصلے کرنے چاہئیں۔

فرانس اس وقت دنیا کا چوتھا بڑا ایٹمی طاقت رکھنے والا ملک ہے، جس کے پاس تقریباً 290 ایٹمی وارہیڈز موجود ہیں۔

ماہرین کے مطابق میکرون کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یورپی ممالک امریکا کی ایٹمی چھتری پر مکمل بھروسہ کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کر رہے ہیں۔

جغرافیائی اور سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ فرانس کی یہ پالیسی مکمل طور پر نئی نہیں بلکہ اس کی جڑیں ماضی میں موجود ہیں۔

فرانس نے 1960 کی دہائی میں جب ایٹمی ہتھیار حاصل کیے تو اس وقت سے ہی اس کی دفاعی حکمت عملی صرف اپنے ملک تک محدود نہیں رہی بلکہ اس میں یورپ کا وسیع تر مفاد بھی شامل رہا ہے۔

میکرون نے اپنی تقریر میں اس بات پر زور دیا کہ فرانس کے ”اہم مفادات“ صرف اس کی سرحدوں تک محدود نہیں بلکہ ان کا دائرہ یورپ کے دیگر علاقوں تک بھی پھیلا ہوا ہے۔

تاہم انہوں نے اس دائرے کی مکمل وضاحت نہیں کی، جسے ماہرین ایک حکمت عملی قرار دیتے ہیں تاکہ دشمن کو مکمل معلومات نہ مل سکیں۔

فرانس کی ایٹمی پالیسی دراصل سابق صدر جنرل چارلس ڈیگال کے دور سے چلی آ رہی ہے، جس میں ایٹمی طاقت کو قومی خودمختاری اور دفاع کا بنیادی ستون سمجھا جاتا ہے۔

اس پالیسی کے تحت ایٹمی فیصلے مکمل طور پر خودمختار ہوتے ہیں اور انہیں کسی دوسرے ملک کے ساتھ شیئر نہیں کیا جاتا۔

میکرون نے یہ بھی عندیہ دیا کہ فرانس یورپ کے دیگر ممالک جیسے برطانیہ، جرمنی، پولینڈ، نیدرلینڈز، بیلجیم، یونان، سویڈن اور ڈنمارک کے ساتھ دفاعی تعاون بڑھائے گا۔

ماہرین کے مطابق اس کا مقصد یہ ہو سکتا ہے کہ فرانس اپنے ایٹمی دفاعی نظام کو یورپ کے دیگر حصوں تک بھی پھیلائے، مثلاً ایسے جنگی طیاروں کی تعیناتی جو ایٹمی ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔

ایران کے ساتھ جاری تنازع کے حوالے سے فرانس کا مؤقف قدرے مختلف ہے۔ ایک طرف وہ ایران کے ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی مخالفت کرتا ہے، تو دوسری جانب میکرون نے امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کو غیر قانونی بھی قرار دیا ہے۔

فرانسیسی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے ایٹمی مسئلے کا حل فوجی کارروائی کے بجائے سفارت کاری کے ذریعے نکالا جانا چاہیے۔

فرانس اور ایران کے تعلقات بھی ماضی میں پیچیدہ رہے ہیں۔ 1970 کی دہائی میں ایران نے فرانس کے ساتھ ایٹمی تعاون کا معاہدہ کیا تھا، لیکن 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات خراب ہو گئے۔

بعد ازاں کئی تنازعات اور واقعات کے بعد دونوں ممالک نے اپنے مالی معاملات بھی طے کیے۔

2015 میں ایران کے ایٹمی پروگرام پر ہونے والے عالمی معاہدے میں فرانس بھی شامل تھا، جس کے تحت ایران کے ایٹمی پروگرام کو محدود کیا گیا تھا، تاہم 2018 میں امریکا کے اس معاہدے سے نکلنے کے بعد صورتحال دوبارہ کشیدہ ہو گئی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ میکرون کا حالیہ اعلان اس بات کی علامت ہے کہ یورپ ایک نئی جغرافیائی اور دفاعی حقیقت کا سامنا کر رہا ہے جہاں روایتی جنگوں کے ساتھ ساتھ ایٹمی طاقت کا کردار بھی دوبارہ اہم ہوتا جا رہا ہے۔

تاہم اس پالیسی پر عملدرآمد آسان نہیں ہوگا۔ ماہرین کے مطابق فرانس کو اپنے دفاعی بجٹ میں نمایاں اضافہ کرنا ہوگا، جس کے لیے دیگر شعبوں میں اخراجات کم کرنا پڑ سکتے ہیں۔ اندازہ ہے کہ اس مقصد کے لیے ہر سال کم از کم 100 ارب یورو اضافی درکار ہوں گے۔

میکرون کی صدارت تقریباً ایک سال بعد ختم ہونے والی ہے اور 2027 میں نئے انتخابات متوقع ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ میکرون عالمی سطح پر اپنی پالیسیوں کے ذریعے ایک مضبوط سیاسی ورثہ چھوڑنا چاہتے ہیں، خاص طور پر یورپ کو دفاعی طور پر خودمختار بنانے کے حوالے سے۔

مجموعی طور پر میکرون کے اس اعلان نے یورپ کے دفاعی مستقبل اور عالمی سکیورٹی کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے، اور ماہرین کے مطابق آنے والے سالوں میں اس کے اثرات مزید واضح ہو سکتے ہیں۔

Read Comments